خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 124
خطبات مسر در جلد دہم 124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012ء اور رحم کے حاصل کرنے والے بنتے ہیں۔آخر میں مسجد کی تعمیر کے بارے میں جو مجھے معلومات دی گئی ہیں ، اُن کا بھی مختصر ذکر کر دوں۔کچھ ذکر تو شروع میں ہو گیا کہ کس طرح یہ مسجد بنی اور دفتری عمارت کو تبدیل کیا گیا۔اس کی خرید پر اور تعمیر پر تقریباً نو لاکھ پاؤنڈ خرچ آیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے، میرا خیال ہے ہونسلو (Hounslow) کی دو جماعتوں نے ، یہی مجھے بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر خرچ اُٹھایا اور ریجن میں بھی بعض جگہوں سے دوسری جماعتوں نے بھی چندے دیئے ہوں گے۔اگر صرف ہونسلو کی اور فیلتھم (Felthum) کی جماعتوں کو شمار کیا جائے تو دوصد کے قریب یہاں چندہ دہند بنتے ہیں۔کل تعداد تو ان کی چھ سو ہے۔تو اس نے یہ خرچ اُٹھایا اور مسجد بنائی۔اگر ریجن کو بھی شامل کر لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ چار سو کے قریب بن جائیں گے، پھر بھی یہ کافی بڑی رقم ہے۔جو بھی صورتحال ہو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جماعت نے بڑی قربانی دی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔اور خاص طور چھ اشخاص ایسے ہیں جن کی بڑی قربانیاں ہیں جنہوں نے تقریباً دو لاکھ اسی ہزار کے قریب قربانی کی ہے۔ایک نے ایک لاکھ سے او پر ادا ئیگی کی۔باقی نے ہمیں ہزار سے لے کے پچاس ہزار کے قریب تک۔اللہ تعالیٰ ان سب کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔آخر پر پھر یاد دہانی کے طور پر میں کہتا ہوں کہ مسجد کا حق اُس کی تعمیر سے یا دس، ہیں، پچاس ہزار یا لاکھ پاؤنڈ کی قربانی سے حاصل نہیں ہوتا۔اس طرح یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہوگا۔اصل مقصد اس کو آباد کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔اور آبادی بھی ایسی جو خالصہ اللہ ہو۔خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے ہو اور مسجد سے باہر نکل کر بھی اس عبادت کا ایسا اثر ہو کہ خدا تعالیٰ کے بندوں کا حق ادا کرنے والے بنیں۔نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنے والے بہنیں اور یہی چیز ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والا بنائے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ایک دعا کی بھی تحریک کرتا ہوں ، پاکستان میں تو روز ہمارے ساتھ معاملات ہوتے ہی ہیں لیکن آجکل انڈیا میں بھی حیدر آباد دکن میں ہماری مسجدوں پر غیروں کی نظر ہے اور قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کیونکہ وہاں مسلمان کافی تعداد میں ہیں اس لئے اُن کے شور سے حکومت بھی کچھ اُن کے زیر اثر آ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہمیں بچائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 مارچ تا 22 مارچ 2012 جلد 19 شماره 11 صفحہ 5 تا 8 )