خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 110

خطبات مسرور جلد دہم 110 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012 ء سے بالا ہو کر سوچیں۔علماء جن کو عوام الناس علوم اور روحانیت میں بڑھا ہوا سمجھتے ہیں وہ بھی عقل سے کام لیں اور اپنے مفادات کے بجائے قرآنی تعلیم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے مفادات کی خاطر عوام اور حکمرانوں کو لڑانے کی بجائے تقویٰ سے کام لیں اور جیسا کہ میں نے کہا ، اس کا سب سے خوبصورت حل زمانے کے امام کی آواز کو سن کر اس پر عمل کرنا ہے۔اور اللہ کرے کہ عوام الناس بھی اپنے نور فراست کو بڑھانے کی کوشش کریں اور زمانے کے حالات دیکھنے کے باوجود آنکھیں بند کر کے عقل اور حکمت سے عاری باتیں کرنے والوں کو چاہے وہ علماء میں سے ہوں یا لیڈروں میں سے ہوں، اُن کی اندھی تقلید نہ کریں۔اللہ کرے کہ ہم جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواہش کا اظہار فرمایا تھا، ایک خوبصورت اسلامستان دیکھنے والے ہوں اور یہی ایک حل ہے جو دنیا کو فسادوں سے بچا سکتا ہے۔اللہ کرے دنیا کو عقل آجائے۔آج پھر ایک حاضر جنازہ ہے جو ابھی نمازوں کے بعد میں باہر جا کر پڑھاؤں گا ، احباب یہیں مسجد میں رہیں۔یہ جنازه عزیزم شیخ مصور احمد ابن مکرم شیخ نصیر احمد صاحب جلنگھم کا ہے جو 14 فروری 2012ء کو ایک مختصر علالت کے بعد پچیس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کو مسکولر ڈسٹرافی (Muscular Destrophy) کی بیماری تھی جس میں عمر کے ساتھ مسلز کمزور ہوتے جاتے ہیں۔انہوں نے باوجود معذوری کے جلنگھم جماعت میں مختلف عہدوں پر خدمت کی بھی توفیق پائی، آپ کے سپر د جوبھی کام ہوتا تھا پوری توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کرتے تھے۔ویل چیئر پر تھے لیکن اُس کے باوجود بڑی پھرتی اور تندہی سے اور ہمت سے اور محنت سے کام کیا کرتے تھے۔چندہ جات اور تحریکات میں حصہ لینے والے تھے۔نیک اور دین سے تعلق رکھنے والے۔خلافت سے ایک خاص تعلق مخلص انسان تھے اور ذہین اور قابل تھے باوجود معذوری کے انہوں نے پڑھائی مکمل کی اور پھر بینک میں نوکری کی اور ترقی کرتے ہوئے اس وقت بینک میں اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔افسران بھی ان کے کام سے بہت خوش تھے۔ان کے پسماندگان میں انہوں نے والدین کے علاوہ ایک بھائی یادگار چھوڑا ہے، وہ بھی مسلز کے لحاظ سے بیمار ہی ہے۔یہ عزیز بچہ جو ہے شیخ مبارک احمد صاحب جو انگلستان کے مبلغ تھے، اُن کے بھائی کا پوتا اور میرا خیال ہے شاید نواسہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔لواحقین کو، والدین کو اور بھائی کو صبر جمیل عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 9 مارچ تا 15 مارچ 2012 جلد 19 شماره 10 صفحہ 5 تا8 )