خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 109

خطبات مسرور جلد دہم 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء والے بن جائیں۔پاکستان ہو یا سعودی عرب ہو یا مصر ہو یا شام ہو یا ایران ہو یا انڈونیشیا ہو یا ملائیشیا ہویا سوڈان ہو یا کوئی بھی اسلامی ملک ہو، ان لوگوں کو یہ بتانا ہو گا کہ تمہاری علیحدہ علیحدہ رہ کر کوئی ساکھ نہیں بن سکتی۔تمہاری ساکھ اُسی وقت بن سکتی ہے اور تمہاری بقا اسی میں ہے، ان ممالک کا رعب تبھی ہے جب وہ ایک ہوکر اسلام کی عظمت کے بارے میں سوچیں گے۔جب وہ اپنے ملکوں کے اندر بھی اور اپنے ہمسایوں میں بھی فرقوں سے بالا ہو کر سوچیں گے۔یہ پیغام ہے جو ہم نے ان ملکوں کو بھی دینا ہے۔آج ہمیں مصر کے لئے بھی کوشش کرنی چاہئے اور شام کے لئے بھی کوشش کرنی چاہئے ، لیبیا کے لئے بھی یہ پیغام اُن کے ارباب حل و عقد کو پہنچانا چاہئے کہ اگر اپنے قبیلوں اور فرقوں کو فوقیت دیتے رہے اور اس کے لئے ظلم کرتے رہے تو خود اپنے ہاتھ سے اپنے ملکوں کو کھوکھلا کرنے والے بنتے رہو گے۔تمہارے اندر نہ ہی ملکی لحاظ سے، نہ ہی مسلم امہ کے لحاظ سے کبھی طاقت آئے گی، بلکہ کمزوری بڑھتی ہی جائے گی اور غیر تمہیں پھر اپنے پنجے میں لے لیں گے۔پھر اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے کہ غلامی کی زنجیروں میں بعض ملک جکڑے بھی جا سکتے ہیں۔پس ان کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہوش کرو اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی فکر نہ کرو۔صرف اپنے قبائل اور فرقوں کی ناجائز طرفداری نہ کرو ورنہ سب کچھ ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔ملکوں کی انفرادیت قائم رکھنے کی بجائے اسلام کی عظمت کو قائم کرنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ نے اس عظمت کو قائم کرنے کے لئے جس شخص کو بھیجا ہے اُس کی باتوں پر بھی غور کرو۔پس یہ عظیم مقصد حاصل کرنے کے لئے موقع کے لحاظ سے، سمجھا کر بھی اور دعاؤں سے بھی ہم نے یعنی ہر ملک میں رہنے والے احمدی نے اپنا یہ کردار ادا کرتے چلے جانا ہے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ سال بھی کہا تھا کہ ہم میں سے ہر احمدی کو دنیا کی اصلاح کی یہ کوشش کر کے مصلح بننے کا کردار ادا کرنے والا ہونا چاہئے تا کہ مصلح موعود کے مقاصد کو جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی تکمیل ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے دنیا کو لانے کا ایک عظیم منصوبہ ہے اُسے ہم حاصل کر سکیں۔پس یہ دور جو فساد میں بڑھتے چلے جانے کا دور ہے، جس میں بڑی طاقتوں کی نظریں بھی اسلامی ممالک کے وسائل پر لگی ہوئی ہیں۔اس میں بہت زیادہ کوشش کر کے ہم احمدیوں کو ہر اسلامی ملک کو بھی اور مسلم امہ کو بھی ہوس پرستوں کی ہوس سے بچانے کے لئے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اقدام کرنے چاہئیں اور اس کے لئے سب سے بڑھ کر جیسا کہ میں نے کہا دعا ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمان ملکوں کے سیاستدانوں اور لیڈروں کو بھی عقل اور سمجھ دے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد