خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 42

خطبات مسرور جلد دہم 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔موریوں اور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہندو اور عیسائی اس پر بنتے ہیں۔اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔مجھے ایسی خبریں یا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے۔جب میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بدعملیوں کی وجہ سے مور دعتاب ہوئے۔دل بے قرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں اپنی بداعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اسلام پر جنسی کراتے ہیں۔(اور یہ صورتحال آج بھی ہے۔یہاں جو کئی مسلمان آتے ہیں انہیں آپ دیکھیں جب وہ خاص طور پر جہازوں پر سفر کر رہے ہوں جہاں شراب پینے کی آزادی ہے، پاکستان کے سفر کر رہے ہیں یا عرب ملکوں کے سفر کر رہے ہیں تو بے تحاشا شراب پی رہے ہوتے ہیں اور ساتھ والوں کو بھی تنگ کر رہے ہوتے ہیں۔فرمایا ”پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنالو کہ کفار کو بھی تم پر ( جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے) نکتہ چینی کرنے کا موقعہ نہ ملے ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 48-49 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک بات کی نصیحت کرتے ہوئے کہ اصل بہادر کون ہے؟ ایک احمدی کو ، مومن کو کس قسم کا بہادر ہونا چاہئے۔فرمایا کہ: ”ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں ( ہمیں وہ نہیں چاہئیں بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔نہیں نہیں۔اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے۔پس یا درکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیلِ اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 88-89 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر صحیح عقائد اور اعمالِ صالحہ کو مدنظر ر کھنے کے لئے آپ نصیحت فرماتے ہیں کہ : علاوہ ازیں دو حصے اور بھی ہیں جن کو مد نظر رکھنا صادق اخلاص مند کا کام ہونا چاہئے۔ان میں سے ایک عقائد صحیحہ کا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بڑوں مشقت و محنت کے دکھائی ہے۔“ ( یہ سب کچھ ہمیں پکا پکایا سامنے آ گیا۔بنابنایا سامنے آ گیا۔کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی )۔وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانہ میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالم ابھی تک اس سے محروم ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کر واور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجالاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں۔اور اپنی