خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد و هم 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012 ء اور اس زمانے میں یہ روشنی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملی ہے۔اس لئے قرآن کریم کی تفسیر اور اُس کو سمجھنے کے لئے آپ کی کتب پڑھنا اور آپ کی تفسیریں پڑھنا یہ بہت ضروری ہے۔پھر آپ سائنس کو دینی علوم کے ساتھ ملا سکتے ہیں اور کہیں کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جہاں دنیاوی علوم دین پر غالب آجائیں۔ہمیشہ دین ہی غالب رہتا ہے اور دین ان دنیاوی علوم کو ، سائنسی علوم کو اپنے تابع کر لیتا ہے۔پھر آپ صَابِرُوا وَرَابِطُوا (آل عمران (201)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر کی تلقین کرو اور سرحدوں کی حفاظت کرو، کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تا کہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو۔( سرحدوں کی حفاظت کے لئے فوجوں کی ضرورت ہے۔پرانے زمانے میں گھوڑوں کی فوج بڑی اچھی سمجھی جاتی تھی۔اس زمانے میں ہر قسم کے جدید آلات ہیں، اگر ملکوں کی حفاظت کرنی ہے، سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے تو وہ رکھنے ضروری ہوتے ہیں۔جس طرح گھوڑا ہونا ضروری ہے تا کہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے، تمہاری طرف حملہ نہ کرے، اسی طرح تم بھی تیار رہو۔) فرمایا ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو (اللہ تعالیٰ کی پناہ کے محفوظ قلعے میں آسکو ) اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہوگئی ہے۔قومیں ان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔“ ( یہ صورتحال جیسے آج سے سو سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھی آج بھی اسی طرح ہے بلکہ بڑھ گئی ہے۔مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اُن کے غلط عمل کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔فرمایا اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔“ ( تم لوگ جو اس زمانے کے مسیح موعود کو ماننے والے ہو، مہدی معہود کو ماننے والے ہو، تمہاری بھی اگر طاقتیں کمزور ہو گئیں اور دنیا داری میں پڑ گئے، دین کو بھول گئے تو پھر خاتمہ سمجھو۔فرمایا تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا 66