خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد دہم 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگو کہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے۔حصہ عبادات میں صوم (عبادات میں جو بات ہے اُس میں صوم صلوۃ و زکوۃ وغیرہ امور شامل ہیں۔اب خیال کرو کہ مثلاً نماز ہی ہے۔یہ دنیا میں آئی ہے لیکن دنیا سے نہیں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 94-95 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) کہ نماز دنیا میں تو آئی ہے لیکن دنیا سے نہیں آئی یا دنیا والوں کی چیز نہیں ہے۔وہی اس کا حق ادا کر سکتے ہیں جو حقیقی مومن ہیں۔فرمایا ہماری جماعت کو آخرت پر نظر رکھنی چاہئے۔”دیکھولوط وغیرہ قوموں کا انجام کیا ہوا۔ہر ایک کو لازم ہے کہ دل اگر سخت بھی ہو، تو اُس کو ملامت کر کے خشوع و خضوع کا سبق دے۔‘ (اگر دل سخت بھی ہے تب بھی کوشش کرو اور بار بار کوشش کرو۔اپنے آپ کو کوسو۔دل کو کو سوتا کہ اس میں نرمی پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو۔عبادت کی طرف توجہ پیدا ہو اور وہ جھکے۔فرمایا کہ ”ہماری جماعت کے لئے بہت ضروری ہے، کیونکہ ان کو تازہ معرفت ملتی ہے۔اگر کوئی دعویٰ تو معرفت کا کرے ،مگر اس پر چلے نہیں تو یہ لاف و گزاف ہی ہے۔اس لئے ہماری جماعت دوسروں کی غفلت سے خود غافل نہ رہے اور ان کی محبت کو سرد دیکھ کر اپنی محبت کو ٹھنڈا نہ کرے۔انسان بہت تمنائیں رکھتا ہے۔غیب کی قضا و قدر کی کس کو خبر ہے۔“ ( غیب کی اور قضا و قدر کی کس کو خبر ہے۔کوئی نہیں جانتا کب ہونا ہے، کیا ہونا ہے؟ ) ” آرزؤوں کے موافق زندگی کبھی نہیں چلتی ہے۔( جو تمہاری خواہشات ہیں اُن کے مطابق زندگی نہیں چلا کرتی۔) فرمایا کہ آرزؤوں کا سلسلہ اور ہے اور قضا و قدر کا سلسلہ اور ہے اور یہی سلسلہ سچا ہے۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے پاس انسان کے سوانح بچے ہیں۔اُسے کیا معلوم ہے کہ اس میں کیا کیا لکھا ہے اس لئے دل کو جگا جگا کر متوجہ کرنا چاہیے۔“ اللہ تعالیٰ کے پاس جو تمہاری زندگی کے حالات پہنچ رہے ہیں وہ بالکل صحیح پہنچ رہے ہیں۔کوئی چیز بھی ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 96 ایڈ یشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ) اُس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔اس لئے بار بار اپنے دل کو ٹولو اور اُسے جگاؤ اور اللہ کی طرف توجہ پیدا کرو۔پھر فرماتے ہیں کہ : ” تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہوسکتا ہے۔تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت سے ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل استقلال اور خلوص سے طے کرے ، تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔