خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 255
خطبات مسر در جلد دہم 255 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء اور حضرت اقدس جہلم تشریف لائے ہیں۔آپ کسی کو بتائیں نہیں، میں جاتا ہوں۔وقت گاڑی کا بالکل تنگ تھا اور تین میل پر سٹیشن تھا۔رستہ پہاڑی ، رات کا وقت، دن کو بھی لوگوں کو اُس طرف پر چلنا مشکل تھا۔میں نے خدا پر توکل کیا اور چل پڑا۔اتفاق سے کوئی بھی تمام راستہ میرے آگے چلتی گئی۔شاید کوئی اور آدمی بھی جار ہا ہوگا۔خدا خدا کر کے پہاڑی رستہ دوڑتے ہوئے طے کیا۔جب سٹیشن پر پہنچا تو گاڑی بالکل تیار تھی۔ٹکٹ لیا اور جہلم پہنچا اور حضور کی زیارت سے مشرف ہوا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 11 صفحہ 209-210) حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت بالکل نو جوان تھا۔کپور تھلے میں ایک رات مجھے ایک خواب آیا کہ ایک ہاتھی ہے۔میں اُس کے نیچے آ گیا ہوں اور اس کا پیٹ میرے اوپر ہے۔جب صبح ہوئی تو خانصاحب عبدالمجید خان صاحب نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب! آج دریائے بیاس میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور ہم ہاتھیوں پر بغرض سیر و تفریح وہاں دریا کا نظارہ دیکھنے کے لئے جانے کے لئے تیار ہیں۔آپ بھی ضرور تشریف لے چلیں۔میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جا سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج رات میں نے ایک سخت منذر خواب دیکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں ہاتھی کے نیچے آ گیا ہوں۔لیکن وہ یہ خواب سن کر بھی برابر اصرار ہی کرتے رہے اور میں بار بارا نکار کرتا کیونکہ میرے قلب پر اس خواب کا بہت برا مہیب اثر مستولی ہو رہا تھا۔اور جب میں نے خانصاحب سے یہ فقرہ سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ دریا پر جانے کے لئے ہاتھیوں پر سوار ہو کر جانا ہے تو ہاتھیوں کا نام سن کر اور بھی میرے دل پر اس خواب کا شدید اثر محسوس ہوا۔پھر تو میں نے شدت کے ساتھ انکار کیا اور ساتھ جانے سے اعراض کیا۔پھر خانصاحب کے ساتھ اور کئی دوست بھی جانے کے لئے مصر ہوئے (اصرار کرنے لگے۔) اُن دوستوں کے بے حد اصرار کی وجہ سے آخر میں نے سمجھا کہ قضاء قدر یہی مقدر معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ وقوع میں آنا ہے وہ ہوکر رہے۔تب میں بادل نخواستہ اُن کے ساتھ تیار ہو گیا اور دوستوں نے کئی ہاتھی تیار کئے اور تین ہاتھی تھے یا چار جن پر دوست سوار ہوئے۔مجھے بھی خانصاحب موصوف نے اپنی معیت میں ایک ہاتھی پر سوار کیا۔جب دریا پر گئے تو قضاء وقدر نے ظاہری ہاتھیوں کی صورت میں تو اس منذر خواب کی حقیقت ظاہر نہ ہونے دی بلکہ اس کے لئے ایک دوسرا پیرا یہ اختیار کیا کہ جب ہم ہاتھیوں سے اتر کر برلب در یا کھڑے ہو کر نظارہ کرنے لگے تو ایک نو جوان کو دیکھا کہ اس طغیانی کے موقع پر دریا کا پل جو اپنے نیچے کئی درے رکھتا تھا، وہ اس کے قریب کے در سے پل کے اوپر سے چھلانگ لگا کر کود پڑتا، پھر پل کے نیچے سے قریب کے در سے