خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 256

خطبات مسر در جلد دہم 256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء گزر کر دوسری طرف نکل آتا۔میں بھی کچھ کچھ تیرا کی جانتا تھا۔میں نے اُسے کہا کہ بھائی ! آپ قریب کے در سے گزرتے ہیں، بات تب ہو کہ آپ کسی دور کے در سے گزریں۔اُس نے کہا دریا زوروں پر ہے کیونکہ طغیانی کا موقع ہے۔اس لئے کسی دور کے در سے پل کے نیچے سے گزرنا اس وقت بہت مشکل ہے۔میں نے کہا تیرا کی آتی ہے تو پھر کس بات کا خوف ہے؟ اُس نے کہا کہ آپ تیرا کی جانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں! کچھ جانتا ہوں۔اُس نے کہا پھر آپ ہی گزر کے دکھائیں۔میں نے کہا بہت اچھا۔میں نے لنگوٹ پہن کر دور کے در سے گزرنے کی غرض سے پل کے اوپر سے چھلانگ لگائی۔پہلی دفعہ تو میں درے کے پل کے نیچے سے صاف گزر گیا لیکن دوسری دفعہ پھر اور دُور کے در سے گزرنے کے لئے چھلانگ لگانے لگا۔جب پل کے اوپر سے میں نے چھلانگ لگائی تو اتفاق سے جہاں میں نے چھلانگ لگائی اور گراوہ سخت بھنور اور گرداب کی جگہ تھی۔( یعنی اس جگہ میں بہت زیادہ بھنور تھا۔) جہاں پانی چکی کی طرح بہت ہی بڑے زور سے چکر کھا رہا تھا۔میں گرتے ہی اس گرداب میں پھنس گیا اور ہر چند کوشش کی کہ وہاں سے نکل سکوں لیکن میری کوشش عبث ثابت ہوئی۔آخر میں اسی گرداب میں کچھ وقت تک پانی کی زبر دست طاقت کے نیچے دب گیا اور میرے لئے بظاہر اس گرداب سے نکلنا محال ہو گیا۔اور میری مقابلہ کی قوتیں سب کی سب بریکار ہونے لگیں اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دو تین منٹ کے اندراندراب میری زندگی کا نظام درہم برہم ہو کر میرا کام تمام کر دیا جائیگا۔اُس وقت سب احباب جو پل کے اوپر سے میری اس حالت کا نظارہ کر رہے تھے وہ شور کرنے لگے کہ ہائے افسوس! مولوی صاحب گرداب میں پھنس کر اپنی زندگی کے آخری دم توڑنے کو ہیں۔اُس وقت عجیب بات قضاء وقدر کے تصرف کی یہ تھی کہ احباب باوجود واویلا کرنے اور شور مچانے کے کہ میں ڈوب رہا ہوں، انہیں یہ بات نہ سوجھ سکی کہ وہ سر سے پگڑی اتار کے ہی میری طرف پھینک دیتے، تا میں اس پگڑی کا ایک سرا پکڑ کر کچھ بچاؤ کی صورت اختیار کر سکتا۔مگر یہ خیال کسی کی سمجھ میں نہ آسکا۔اب میری حالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ عالم اسباب کے لحاظ سے بالکل مایوس کن حالت ہورہی تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میری زندگی کا سلسلہ اب صرف چندلمحوں تک ختم ہو جانے والا ہے اور میں آخری سانس لے رہا ہوں۔اتنے میں قضاء و قدر نے ایک دوسرا سین بدلا اور حضرت خالق الاسباب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طفیل برکت، جن کی اجازت اور ارشاد کے تحت خاکسار نے کپور تھلے کا سفر اختیار کیا تھا، میری حفاظت اور بچاؤ کے لئے بالکل ایک نئی تجلی قدرت کی نمایاں فرمائی اور وہ اس طرح کہ میں جس گرداب میں غوطے کھا رہا تھا اور کبھی نیچے اور کبھی اوپر اور کبھی پانی کے اندر اور کبھی پانی سے باہر سر نکالتا