خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 64

64 ہے۔ہم نے کابل کے مظالم کے انسداد کے لئے کچھ نہیں کیا اور جو کیا ہے وہ سب زبانی ہے۔ہم نے اپنی جگہ ریزرویشن پاس کئے اور یہ ایک شور ہے جو دنیا میں پیدا ہو گیا۔مگر عملی طور پر ہم نے کیا کیا۔میرے نزدیک یہ سوال صحیح ہے کہ ہم نے اگر سب کچھ زبانی نہیں کیا تو کونسی حقیقی قربانی یا کوئی ایسا کام کیا ہے جس سے ہم ان مظالم میں جو ہمارے بھائیوں پر کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں شریک ہو سکیں۔یا کم از کم ان مظالم سے ان کو بچا سکیں۔اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ وہ تجاویز اور وہ کوشش جو ہم نے اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے کی یا کر رہے ہیں۔اس حد تک کہ قومی مفاد اور سلسلہ کے اغراض کے لئے ان کا بیان کرنا مضر نہ ہو۔میں بیان کروں اور بتاوں کہ کیا کچھ ہم کر سکتے تھے اور کیا کچھ ہم نے کیا۔مگر پیشتر اس کے کہ میں اس مضمون کے متعلق دوستوں کے سامنے مناسب اور قابل ذکر باتیں جو سلسلہ کے مفاد میں حارج نہ ہوں بیان کروں۔پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حالات اور واقعات مختلف ہوتے ہیں۔بعض حالات وہ ہوتے ہیں جو انسان کے اپنے اختیار میں ہوتے ہیں۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو اس کے اختیار میں نہیں ہوتے۔اسی طرح ان کا ازالہ بھی دو طرح ہوتا ہے۔ایک وہ جو اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔اور ایک وہ جو اختیار سے باہر ہوتا ہے۔پھر جن حالات کا ازالہ اختیار میں ہوتا ہے۔وہ بھی دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک وہ کہ جن کے آدمیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ان کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے آدمیوں کی تکلیف کو دور کریں اور ایک یہ کہ ان کی تکلیف کا رفع کرنا دوسروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پھر وہ دوسرے لوگ جن کے اختیار میں ان کی تکلیف کا ازالہ ہوتا ہے ان تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔اور ایک یہ کہ ان تک پہنچنا ناممکن ہوتا ہے۔اب جن تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے اور تکلیف کا ازالہ ان کے اختیار میں ہوتا ہے ان کی بھی دو حالتیں ہوتی ہیں۔اگر تو وہ لوگ جن تک ہمارا پہنچنا ممکن ہوتا ہے متعصب ہوں تو ان تک پہنچنا نہ پہنچنا برابر ہے۔اور دوسرے یہ کہ اگر ان تک پہنچا جائے تو بجائے فائدہ کے مضر ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص نے ارادہ کیا ہے کہ وہ ہمیں قتل کرے یا کوئی ایسی گورنمنٹ ہے جو ہمارے قتل کا ارادہ رکھتی ہے۔اب اگر اس کے پاس ہم پہنچیں تو کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ وقتی طور پر اپنی تجویز کو بدل لے اور کچھ نہیں ہوتا۔اور وہ اس بات کی منتظر رہے گی کہ کسی دوسرے موقع اور وقت پر اپنا کام کرے۔اس لئے ایسی حالت میں ایسی مخفی تدابیر سے کام لیا جا سکتا ہے کہ اس کو پتہ نہ لگے۔تو مختلف واقعات کا ازالہ مختلف طریق سے ہوتا ہے۔پس ہمارا یہ واقعہ بھی اس قسم کا ہے۔جس سے ہمارا معاملہ ہے۔وہ کسی کی رعایا نہیں۔بلکہ خود بادشاہ اور حاکم ہے۔اس وجہ سے اس کی اور ہماری ا