خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 65

65 حالت میں بہت بڑا فرق ہے۔وہ بادشاہ ہے اور ہم بادشاہ نہیں۔اس کے افعال بے شک ظلم کہلائیں ، تعدی کہلائیں مگر اس کا ہاتھ کوئی نہیں روک سکتا۔اس کے ظلم کا انسداد کوئی دوسری حکومت ہی کر سکتی ہے۔مگر ہماری کوئی حکومت یا بادشاہت نہیں۔اگر ہمارے پاس بھی بادشاہت ہوتی تو قرآن کریم کی رو سے ہم پہلے اپنے ان مظلوم بھائیوں کو حکم دیتے کہ وہاں سے ہجرت کر آئیں اور ہمارا فرض ہوتا کہ ہم ان کے رہنے اور گزارے کا سامان مہیا کرتے۔لیکن چونکہ اس وقت کہیں بھی احمدی حکومت نہیں ہے اور نہ ہمارے پاس کوئی ملک ہے اس لئے ہم ان کو ہجرت کا حکم نہیں دے سکتے اور نہ ہجرت ان کے لئے فرض ہے۔ہاں اپنے طور پر جہاں کہیں کوئی پناہ حاصل کر سکتا ہو اور اپنے لئے راستہ کھلا پاتا ہو۔وہ ایسا کر سکتا ہے۔ہجرت اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب کہیں اپنی حکومت ہو۔رسول کریم ﷺ کے وقت بھی جب تک آپ کو حکومت نہیں ملی اس وقت تک مسلمانوں کے لئے ہجرت فرض نہیں ہوئی تھی۔۱۳ سال تک متواتر مکہ کے لوگ جس طرح آج احمدیوں پر کابل میں ظلم کیا جا رہا ہے۔اسی طرح وہ بھی مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم کرتے رہے مگر ان پر ہجرت فرض نہ ہوئی۔حتی کہ خود آنحضرت الا نے بھی ہجرت نہ کی۔پھر وہ وقت آیا کہ آپ نے ارشاد الہی کے ماتحت مکہ سے ہجرت کی اور التالي آپ کو باہر جا کر مدینے میں حکومت حاصل ہو گئی۔اور حکومت ملنے کے ساتھ ہی معا مسلمانوں پر ہجرت بھی فرض ہو گئی۔اس سے پہلے ہجرت فرض نہیں ہوئی تھی۔پس ہجرت اسی وقت فرض ہوتی ہے۔جب کسی جگہ اپنی حکومت ہو۔لیکن جب کہیں بھی اپنی حکومت نہ ہو تو پھر ان کو اختیار ہوتا ہے کہ جہاں کہیں اپنے تعلقات اور وسعت کے لحاظ سے وہ اپنی حفاظت کر سکتے ہوں کریں۔یا پھر اس وقت کا انتظار کریں۔جب خدا تعالیٰ خود ان کے بچانے کے لئے کوئی راستہ نکالے۔چونکہ ہماری حکومت نہیں ہے اس لئے ہم ان کو ہجرت کا حکم نہیں دے سکتے۔یا پھر ان حالات کے ماتحت کہ ایک احمدی اس لئے مارا جائے کہ وہ احمدی ہے۔شریعت انہیں حق دیتی ہے کہ وہ اس قوم کے خلاف جنگ کریں اور ان کے شر سے اپنے آپ کو بچائیں۔لیکن چونکہ ہمارے پاس کوئی حکومت نہیں اس لئے یہ بات بھی ہم پر چسپاں نہیں ہو سکتی۔پس نہ ہم ان کو ہجرت کا حکم دے سکتے ہیں اور نہ کابل کے خلاف جنگ کر سکتے ہیں۔تیسری بات یہ ہے کہ ہم امیر امان اللہ کے پاس اپیل کریں۔مگر یہ بھی بے فائدہ ہے اور اس کا کوئی بہتر نتیجہ نہیں نکل سکتا۔کیونکہ جس گورنمنٹ میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ ایسے شدید مظالم ہو رہے ہیں وہ در حقیقت امیر کابل کے ہاتھ میں نہیں۔اگر افغان حکومت کے اختیار میں یہ تمام