خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 63

63 اپنے ان مظلوم بھائیوں کے لئے جن کو کابل میں ظالمانہ طور پر نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کیا گیا۔نہ کیا ہو۔مگر قطع نظر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں کے دلوں میں بھی یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ ہم نے اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے کیا کیا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال ان کے دلوں میں بے شک پیدا ہونا چاہیے تھا۔یہ کوئی قابل الزام بات نہیں۔کیونکہ وہ بھی اس محبت اور ہمدردی سے کہتے ہیں جو کہ ان کو اپنے ان مظلوم بھائیوں کے ساتھ ہے۔نہ اس وجہ سے کہ دوسرے لوگوں نے کوئی ایسا کام کیا ہے۔جو ہم نے نہیں کیا۔اور واقعہ میں ہمیں یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ اور لوگوں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے کیا کیا۔اور لوگ کچھ کریں یا نہ کریں وہ قابل الزام نہیں۔مگر ہم قابل الزام ہوں گے۔کیونکہ آدمی ہمارے مارے گئے ہیں۔وہ لوگ جو احمدی کہلاتے ہیں۔(پیغامی) یا وہ لوگ جو غیر احمدی ہیں یا عیسائی ہیں۔یا ہندو ہیں۔انہوں نے کچھ کیا یا نہ کیا۔یا وہ ان مظالم کے متعلق پروٹسٹ کریں یا نہ کریں۔مگر سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم نے کیا کیا۔اگر ان میں سے کسی نے کوتاہی کی تو وہ ذمہ دار نہیں۔مگر ہم نے اگر کچھ کوتاہی کی ہے تو ہم ذمہ دار ہیں۔بعض نے مجھے خطوط لکھے ہیں کہ ہم نے اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے جو کچھ کیا ہے اس سے زیادہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے تھی۔اب تک جو کچھ ہوا ہے سب زبانی ہے۔چنانچہ اسی مضمون کا ایک عزیز نے مجھے خط لکھا ہے۔گو اس نے اپنا نام خط پر نہیں لکھا۔لیکن میں اس کے خط کو خوب پہچانتا ہوں۔اس پر مجھے تعجب ہوا اور میں کوئی وجہ نہیں پاتا کہ اس عزیز نے کیوں اپنا نام نہیں لکھا۔کیونکہ اس نے کوئی ایسی بات نہیں لکھی جس کے لکھنے پر نام چھپایا جاتا اور جو قابل الزام ہو اور اگر قابل الزام بھی ہوتی تو بھی ایک مومن کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ ایک تحریک کرے مگر اپنے آپ کو چھپائے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔قل اعوذ برب الناس ملک الناس الله الناس من شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناس (الناس) کہ تم کہو میں پناہ مانگتا ہوں۔رب الناس ، ملک الناس ، الہ الناس سے خناس کے وسوسے کے شر سے۔پس اپنے آپ کو چھپا کر کسی قسم کی تحریک کرنا تو شیطان کا کام ہے۔مومن ایک منٹ کے لئے بھی یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ وہ ایک تحریک کرے۔اور پھر اپنے آپ کو چھپائے۔ایک بات پیش کرے اور خود سامنے نہ آئے۔یہ طریق خناس کا ہے کہ وہ ایک خیال پیدا کرتا ہے مگر آپ سامنے نہیں آتا۔مومن کو ایسے طریق سے بچنا چاہیے۔میں اگر صحیح سمجھا ہوں تو وہ ایک نیک اور مخلص نوجوان ہے۔اس کا نام چھپانا میں نا پسند کرتا ہوں۔اس عزیز نے بھی یہ لکھا