خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 301

301 ہی انسان اصلاح کر سکتا تھا اور وہ وہی ہو سکتا تھا۔جو خود خدا تعالیٰ کا کلام سنے اور بتائے کہ یہ وحی ہے۔پس اس اصلاح کے لئے ایک ہی شخص کھڑا ہو سکتا تھا اور وہ وہی جو خود خدا تعالیٰ کی وحی حاصل کرے۔اور یہ مامور کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔بھلا سوچو تو وہ مولوی جس نے کبھی صحیح خواب بھی نہ دیکھی ہو۔جس کے کان خدا تعالیٰ کی آواز سے قطعا " نا آشنا ہوں۔کیا وہ کہہ سکتا تھا کہ وحی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اگر وہ کہتا تو اس کی بات سنتا کون اور وہ کیا دلیل دیتا۔قرآن کریم کی آنتیں پیش کرتا؟ یہ تو پہلے بھی موجود تھیں۔پھر سلسلہ وحی کو بند کرنے کا عقیدہ کیوں پیدا ہوا۔ایسے مولوی کی مثال وہی ہوتی جو اس طرح مشہور ہے۔کہ سکھوں کے زمانہ میں گیہوں لوٹ لی جاتی تھی۔چونکہ فساد بہت پھیلا ہوتا تھا۔اس لئے کھیتی باڑی کم کی جاتی تھی اور گیہوں کی پیداوار کم ہوتی تھی اور جو ہوتی تھی۔اسے سکھ لوٹ کر لے جاتے تھے تاکہ فوج کے کام آئے۔اس وقت کے متعلق ایک لطیفہ بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ کوئی شخص مجلس میں کہہ رہا تھا۔گیہوں کی روٹی بڑی مزے دار ہوتی ہے۔سب لوگ حیران تھے کہ اس نے گیہوں کی روٹی کہاں کھائی ہے۔ایک شخص نے سوال کیا۔کیا کبھی تم نے گیہوں کی روٹی کھائی ہے؟ اس نے کہا۔میں نے تو نہیں کھائی۔میرے دادا صاحب بیان کرتے تھے۔کہ انہوں نے ایک آدمی کو گیہوں کی روٹی کھاتے دیکھا تھا۔وہ بچا کے مار مار کے کھا رہا تھا۔پس اگر کوئی مولوی یہ کہتا کہ وحی جاری ہے تو اس کی یہی مثال ہوتی کہ ہمارے دادا صاحب ایسا کہتے تھے اور اسے کون مان سکتا تھا۔اسے وہی جواب دیا جاتا۔جو گیدڑ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ رات کو غار سے نکل کر کہتا ہے۔پدرم سلطان بود اور دوسرے گیدڑ کہتے ہیں۔ترا چہ۔ترا چہ۔تراچه - ترا چہ۔پس اگر ایسے مولوی یہ کہتے بھی کہ وحی کا سلسلہ جاری ہے تو ان کے پاس کیا ثبوت تھا اور ہمیں ان کے کہنے سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔جس شخص نے خود وحی کا مزہ ہی نہ چکھا ہو۔ممکن ہی نہ تھا کہ وہ با آواز بلند کہہ سکتا کہ وحی جاری ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس الزام سے بری قرار دے سکتا کہ دنیا میں چاہے کتنی بربادی اور سیاہ کاری پھیل جائے۔وہ اپنا کلام نہیں نازل کر سکتا۔اس بہت بڑے الزام سے اگر خدا تعالیٰ کی ذات کو پاک کر سکتا تھا تو وہی جو مامور ہو۔اور یہ غلط ہے کہ کوئی مولوی یہ اصلاح کر سکتا تھا۔اول تو ہم کہتے ہیں۔جتنی اصلاحیں حضرت مرزا صاحب نے کی ہیں۔خواہ وہ بغیر