خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 302

4112 وحی کے ہوں اور لوگوں نے کیوں نہ کیں۔لیکن اگر بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ وہ اصلاحیں جو آپ نے بغیر وحی کے کیں۔مولوی کر سکتے تھے۔گو انہوں نے نہیں کیں۔تو یہ اصلاح ایسی تھی کہ جسے مولوی کسی طرح کر ہی نہ سکتے تھے۔یہ حضرت مرزا صاحب نے ہی بتایا ہے کہ وحی اب بھی نازل ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے اور اس کے بغیر کامل یقین اور ایمان حاصل نہیں ہو سکتا۔اور نہ کوئی شخص رسولوں کو مان سکتا ہے۔کون مان سکتا تھا۔جس نے وحی نہیں سنی کہ محمد ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی۔مسلمانوں کا سنی سنائی باتیں بیان کرنا ایسا ہی تھا جیسے ہندوؤں میں نیل کنٹھ وغیرہ کے قصے مشہور ہیں۔اگر اس قسم کے خرافات کو کوئی نہیں مان سکتا تو اسبات کو کون مانے گا کہ آج سے تیرہ سو سال قبل تو وحی ہوتی تھی مگر اب نہیں ہو سکتی۔حالانکہ جو بات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہوتی ہے۔خصوصا وہ جس کی ضرورت ہو۔وہ کبھی بند نہیں ہو سکتی۔مگر وہ یہ تو مانتے ہیں کہ ۱۴ سو سال کے عرصہ میں جیسے علم ہیت کے تغیرات کی ضرورت تھی۔اسی طرح وحی کی ہے مگر کہا یہ جاتا ہے کہ آئندہ وحی کبھی آنے کی نہیں۔اس بات کو کون عقل مند مان سکتا ہے کہ پہلے کبھی وحی آیا کرتی تھی جواب نہیں آتی۔فطرت انسانی انہی باتوں کو تسلیم کرتی ہے جو ہوتی رہتی اور جن کے آئندہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔پس یہ مسئلہ صرف مامور من اللہ ہی حل کر سکتا تھا اور یہ غلط ہے کہ کوئی مولوی یا صوفی بھی اسے کر سکتا تھا۔ساری دنیا کے مولوی اسے حل نہ کر سکتے تھے اور اگر حل کرنے کی کوشش کرتے تو اور زیادہ پیچیدگی پیدا کر دیتے۔وہ مولوی جو یہ کہتے کہ ہمیں کبھی وحی نہیں ہوئی۔وہ اگر کہتے کہ وحی نازل ہوتی ہے۔تو اس سوال کا کیا جواب دے سکتے کہ کس پر نازل ہوتی ہے۔اس طرح تو وحی کے نازل نہ ہونے کا یقین اور بڑھ جاتا کہ جس سے پوچھا جائے وہی کہتا ہے مجھ پر نازل نہیں ہوتی۔اس لئے یہ بات ہی غلط ہے کہ نازل ہوتی ہے۔ہر ایک عقل مند اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ بغیر اس کے کہ الہام کا دروازہ کھلا ہو اسلام اور ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔اور اگر اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مرزا صاحب نہ آئے ہوتے تو اسلام اور ایمان بھی نہ ہوتا۔رسول کریم نے جو یہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا۔تو اس کا یہی مطلب ہے۔الہام لائے گا۔جب کہا گیا کہ وحی نازل ہونا بند ہو گیا ہے۔تو وحی آسمان پر چلی گئی اور قرآن کے صرف الفاظ رہ گئے۔اب حضرت مرزا صاحب نے جب یہ ثابت کر دیا کہ وحی جاری ہے تو الفاظ میں روح آگئی۔پس جو شخص بے تعصبی سے غور کرے گا۔اسے ماننا پڑے گا کہ یہی اکیلا کام ایسا عظیم الشان