خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 300

300 باتیں نکال لیتے تھے۔اس قسم کا موقع اگر ہمیں بھی ملے تو ہم بھی نکال سکتے ہیں۔غرض انہوں نے ہمیشہ کے لئے ہی انکار کر دیا کہ وحی کبھی نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ایسے نازک زمانہ میں اسلام دو مصیبتوں میں گھرا ہوا تھا۔ایک طرف خدا تعالیٰ کے متعلق نعطل صفات کا عقیدہ علماء میں پایا جاتا تھا۔اور اسی وجہ سے وہ سلسلہ وحی کو بند قرار دیتے تھے۔اور دوسری طرف انگریزی خواں وحی اعلیٰ خیالات اور پاک تصورات کا نام رکھ رہے تھے۔ان کے نزدیک خداتعالی کی طرف سے آواز سنائی دینا یا نظارے دکھانا درست نہیں تھا۔بلکہ بات یہ تھی کہ جب انسان سوچتا ہے تو اس کے قلب پر جو خیالات منعکس ہوتے ہیں۔اسی کا نام وحی رکھا جاتا ہے۔ان دو مصیبتوں میں اسلام آیا ہوا تھا۔جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔ایسے وقت میں کون تھا جو اصلاح کر سکتا؟ کیا مولوی؟ ان کی طاقت تھی کہ اس خرابی کی اصلاح کر سکتے۔جن کا یہ خیال تھا کہ سلسلہ وحی بند ہو چکا ہے۔امید تو بڑی بات ہے۔ان مولویوں میں سے تو کوئی خیال بھی نہ کرتا تھا کہ مجھ پر وحی نازل ہو سکتی ہے۔پھر مایوسی تو الگ رہی کہ انسان سمجھتا ہے میں اس چیز کے قابل نہیں ہوں کہ مجھے حاصل ہو۔بلکہ مولوی تو یہ کہتے تھے کہ جو شخص کہے کہ مجھے وحی ہوتی ہے وہ کافر ہے۔کیا ایسے مولوی اس رختہ کو بند کر سکتے تھے ؟ جو شخص بھیڑیے کو بکری سمجھ کر کان سے پکڑ کر لے آئے اور لاکر بکریوں میں چھوڑ دے۔کیا وہ یہ امید رکھ سکتا ہے کہ اس کی بکریاں محفوظ رہیں گی۔پھر وہ لوگ جو اس خیال کو جو اسلام کی بیخ کنی کرنے والا تھا۔جب اسلام کا جزو بتاتے تھے۔تو ان کے متعلق کس طرح امید کی جا سکتی تھی کہ اس کے نقصان سے اسلام کو بچا الليل سکیں گے۔علماء کی تو یہ حالت تھی۔دوسرا فریق نئی تعلیم حاصل کرنے والا تھا۔وہ رسول کریم ﷺ کی وحی کا ہی منکر تھا۔اس سے کیونکر امید ہو سکتی تھی کہ اس مشکل کو حل کرے گا جب ایسی حالت تھی۔تو پھر یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی آنے والے کی کیا ضرورت تھی۔کیسی جہالت اور نادانی ہے۔ذرا غور تو کرو۔دنیا کی کیا حالت تھی۔وحی کے متعلق دو قسم کے خیال پائے جاتے تھے۔یا تو یہ کہ اب نہیں آسکتی اور یا یہ کہ کبھی آئی ہی نہیں۔محمد اس پر بھی نہیں نازل ہوئی تھی۔یہ خیال ہی خیال ہے۔جب " مسلمان کہلانے والوں کی یہ حالت ہو اور صوفیاء تک اسی میں مبتلا ہوں۔سڑک پر چلتے ہوئے آواز آئی تو کہہ دیا استخارہ نکلا ہے۔اس طرح وہ بھی وحی کو بند سمجھتے تھے۔اپنے خیالات، افکار اور آراء پر بنیاد سمجھتے تھے۔ایسے لوگ کب اصلاح کر سکتے تھے۔ایسی حالت میں ایک