خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 299

299 بتاتا ہے یا بند۔اس پر اس نے کہا۔آپ عجیب تاویلیں کر کے میرے سوال سے بچنا چاہتے ہیں۔یہاں قرآن کا کیا سوال ہے۔سوال تو یہ ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ کیا ہے اور کیا آپ مسلمان نہیں؟ میں نے کہا مسلمان وہ ہوتا ہے جو قرآن کو مانے اور میں ایسا ہی مسلمان ہوں اس پر جھلا کر کہنے لگا۔میں نے کیسا صاف اور سیدھا سوال کیا تھا کہ علماء نے سلسلہ وحی کے جاری رہنے کے متعلق کیا کہا ہے۔کیا انہوں نے جاری بتایا ہے مگر آپ قرآن کو پیش کرتے ہیں۔میں۔آپ قرآن کو پیش کرتے ہیں۔میں نے کہا۔میرا بھی بالکل سیدھا جواب ہے کہ قرآن کریم نے جاری رکھا ہے۔بند نہیں کیا۔اس کے متعلق گھنٹہ بھر تک وہ باتیں کرتا رہا۔میں کہوں ہم کسی مولوی کے پابند نہیں۔ان کے آپس میں بے حد اختلافات ہیں۔قرآن کو دیکھو وہ کیا کہتا ہے اور وہ کہے آپ قرآن کیوں پیش کرتے ہیں۔علماء کا عقیدہ بتائیں چونکہ مجھے اور کام تھا۔اس لئے میں نے اسے مولوی سرور شاہ صاحب کے سپرد کر دیا کہ آپ اس سے باتیں کریں۔آخر جب وہ باہر نکلا تو سیشن جج صاحب پاخانہ کر کے اندر آ رہے تھے۔لوٹا ان کے ہاتھ میں تھا۔اس سے بھی انہیں شرم سی محسوس ہوئی۔وہ جلدی جلدی اندر داخل ہونے لگے کہ مولوی صاحب ان سے لپٹ گئے اور کہا شکر ہے آپ یہاں اہلسنت ہیں۔غضب ہو گیا۔یہ لوگ کہتے ہیں وحی کا سلسلہ جاری ہے۔وہ انگریزی تعلیم یافتہ تھے اور سیشن جج رہ چکے تھے۔وہ اس حرکت کو کس طرح برداشت کر سکتے تھے۔سخت گھبرائے اور مولوی صاحب کو دھکہ دے کر کہنے لگے۔تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ میں وحی کے نزول کا قائل نہیں۔کیسا بد تہذیب ہے۔خواہ مخواہ چمٹ گیا ہے۔جاؤ میں بھی احمدی ہوں میرا پیچھا چھوڑو۔یہ اس مدرسہ کے مدرس کی حالت تھی۔جو آزادی اور آزاد خیالی کا جھنڈا اٹھانے والا سمجھا جاتا تھے۔غرض ایک طرف تو مولویوں نے وحی کا سلسلہ اس لئے بند کر دیا کہ ان کے نزدیک اس سے ختم نبوت ٹوٹ جاتی تھی اور دوسری طرف نو تعلیم یافتہ لوگ جنہیں ختم نبوت سے واسطہ ہی نہیں اور ہر بات کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں اور جو اس بات کے تو قائل ہیں کہ کوئی سلسلہ دنیا میں جاری ہو کر بند نہیں ہو جاتا۔مگر وہ یہ ماننے کے لئے بھی تیار نہیں کہ کوئی اور طاقت ان کی غفلتوں پر حاکم ہے۔اس لئے اس زمانہ میں وحی کا نازل ہونا تو الگ رہا وہ تو یہ بھی نہیں مانتے کہ رسول کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی وحی نازل ہوئی تھی۔انبیاء کے متعلق وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ عقل مند اور ہوشیار انسان تھے۔غور فکر سے اچھی