خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 298

298 اب میں اس تلاوت آیات کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔جو حضرت مسیح موعود نے کلام الہی کی کی ہے اور جس سے ایک طرف تو بہت سی غلطیوں کی اصلاح ہو گئی ہے اور دوسری طرف بہت سے نئے علوم معلوم ہوئے ہیں۔پہلی اصلاح جو حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم اور کلام الہی کے ذریعہ کی۔وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ عام عقیدہ رائج ہو گیا تھا کہ رسول کریم ال کے بعد سلسلہ وحی اور الہام بند ہو گیا ہے اور لوگ اس عقیدہ پر اس قدر پختہ تھے کہ اگر کہیں وحی کا لفظ ایسے کلام کے متعلق جو کسی انسان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔بولا جائے تو معا" کفر قرار دے دیتے تھے۔مجھے یاد ہے 1911ء میں ہم چند آدمی وفد کے طور پر ہندوستان کے عربی مدارس دیکھنے کے لئے گئے۔جس وقت ہم اس دورہ کے لئے نکلے اسی زمانہ میں لکھنو میں ندوہ کا جلسہ تھا۔جس میں سید رشید رضا صاحب ایڈیٹر المنار صدارت کے لئے مصر سے آئے تھے۔ہم نے اپنے دورہ کے دنوں میں سے وہ دن لکھنو کے لئے رکھے۔جو ندوہ کے جلسہ کے دن تھے۔کیونکہ ہم ندوہ کی تعلیمی کوششوں کو جاننا چاہتے تھے جو ہمارے وفد کا مقصد تھا۔ندوہ والوں نے چاہا کہ ہم ان کے مہمان ٹھہریں۔پہلے تو ہم نے انکار کیا لیکن جب انہوں نے کہا اس طرح ہماری دل شکنی ہوگی تو ہم نے منظور کر لیا۔جلسہ کے دو دن ہم انہیں کے ہاں ٹھرے۔جس کمرہ میں ہمیں ٹھرایا گیا۔اسی میں ایک اور صاحب جو پیشنر سیشن جج اور کانپور کے رہنے والے تھے ، بھی تھے۔ان کے ساتھ ان کا لڑکا بھی تھا۔جو بی اے تھا یا بی اے میں پڑھتا تھا۔عام لوگوں کو علم تو ہو چکا تھا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں۔اس لئے وہ ہم سے باتیں کرنے کے لئے آتے تھے۔ان میں سے ایک ندوہ کا عالم بھی تھا۔ندوہ آزادئی خیال کی وجہ سے مشہور تھا اور کہا جاتا تھا کہ وہ خیال یا وہ رسوم جو رسول کریم ﷺ اور سلف صالحین کے خلاف ہوں۔یہ لوگ انہیں ترک کر چکے ہیں۔ایسے وسیع الخیال لوگوں کے مدرسہ کا مدرس آیا اور اس نے آتے ہی جو سوال کیا۔وہ یہ تھا کہ کیا یہ درست ہے۔مرزا صاحب پر وحی نازل ہوتی تھی۔میں نے کہا ہاں۔اس پر جھٹ اس نے یہ سوال کیا کیا امت محمدیہ کے اجماع کے مطابق وحی کا سلسلہ رسول کریم کے بعد جاری ہے۔اس پر میں نے کہا۔امت محمدیہ کا اجماع ایسا سوال ہے۔جس کا حل ناممکن ہے۔کون ایسا انسان ہے جو ہر زمانہ کے ہر انسان سے ملا ہو اور اس سے اس کا عقیدہ دریافت کیا ہو۔پس اجماع خیالی بات ہے۔پھر اجماع کیا۔ایک آدمی بھی اگر قرآن کریم کے مطابق کوئی بات کہے۔تو ہمارا فرض ہے کہ اسے مانیں۔اس لئے ہمیں قرآن کریم پر غور کرنا چاہئے کہ وہ وحی کا سلسلہ جاری