خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 150

150 سکتی ہے۔بچہ ہر ایک کام کے سیکھنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اس لئے جس امر کی اس کو مشق کرائی جائے وہ با آسانی کر سکتا ہے۔مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے اور وہ حالات اور واقعات بالکل میری آنکھوں کے سامنے ہیں کہ سخت سے سخت تپش اور شدید گرمی کے وقت میں باہر نکل جاتا اور تپش اور گرمی بالکل محسوس نہ کرتا۔بلکہ مجھے خوب یاد ہے میں اپنے نفس میں اپنے اوپر یہ بڑا ظلم سمجھا کرتا تھا جب مجھے والدہ صاحبہ یا دوسرے نگران گرمی میں باہر نکلنے اور کھیلنے سے روکتے تھے۔میں اس گرمی میں باہر نکل جاتا اور کچھ محسوس نہ کرتا۔میں سمجھتا ہوں کہ جو خیالات بچپن میں میرے ذہن میں پیدا ہوتے تھے وہی دوسرے بچوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہوں گے۔جب کہ ان کو گرمی کے وقت باہر نکلنے سے روکا جاتا ہو گا۔وجہ یہ ہے کہ بچپن میں ایسی باتوں کا احساس نہیں ہوتا۔تو جس قدر محنت اور مشقت کی تکلیف کو ایک بڑا آدمی محسوس کرتا ہے بچہ اس کو محسوس نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت اس کے احساسات کو باطل کیا ہوا ہوتا ہے۔اس لئے اس کو کسی امر کے لئے مشق کرنے میں اتنی دقت محسوس نہیں ہوتی اور جن باتوں کی اس وقت مشق کرتا ہے ان کا آئندہ زندگی میں بڑا اثر ہوتا ہے۔لیکن جن کی مشق بچپن میں نہ ہو ان میں بڑی عمر میں سخت وقت پیش آتی ہے۔تین آدمی مجھے ایسے معلوم ہیں جو نماز میں صحیح طور پر تشہد نہیں بیٹھ سکتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بچپن میں ان کو صحیح طور پر تشہد بیٹھنے کی مشق نہیں کرائی گئی۔یا کسی نے ان کو ٹوکا نہیں تا وہ صحیح طور پر تشہد بیٹھنے کی عادت ڈالتے۔یا ٹوکنے والوں سے ان کا اس طرح بیٹھنا پوشیدہ رہا اور اب بڑی عمر میں وہ صحیح طور پر نہیں بیٹھ سکتے۔دو تو نہایت مخلص اور ہماری جماعت میں شامل ہیں اور ایک کا ہماری جماعت سے تعلق نہیں۔اگر اب وہ چاہیں اور کوشش بھی کریں تو صحیح تشہد نہیں بیٹھ سکتے۔تو بچپن کا زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ بچے کے اس وقت کے حالات کے ماتحت اس سے جس قسم کی مشق کرائیں وہ با آسانی کر سکتا ہے۔لیکن اگر بچپن میں جھوٹ یا چوری وغیرہ کی بد عادات پڑ جائیں۔تو بڑے ہو کر ان کو کتنے ہی وعظ و نصیحت کئے جائیں۔کتنا ہی سمجھایا جائے۔اور کتنی ہی ملامت کی جائے۔لیکن وہ ان افعال کو برا سمجھتے ہوئے بھی ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے ایسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور پھر روتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔چوری کرتے ہیں اور پھر افسوس کرتے ہیں کہ ہم سے ایسا ہوا بلکہ میں نے دیکھا ہے انہوں نے خود ہی اپنی غلطی کو محسوس کر کے چوری کا اقرار کیا اور اس کا ازالہ بھی کر دیا۔لیکن پھر بھی چوری کی عادت سے باز نہیں رہ سکتے۔تو بچپن کی عادت انسان کے ساتھ جاتی طور پر