خطبات محمود (جلد 9) — Page 151
151 اور باقی رہتی ہیں۔الا ماشاء اللہ۔اس لئے بچپن میں بچوں کو اخلاق فاضلہ کی مشق کرانی چاہیے۔اس آئندہ نسلوں کی حفاظت ہو جائے گی یہ بچپن میں تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ کئی ایسے آدمی ہیں جو بہت مخلص اور نیک ہیں لیکن بے ساختہ ان کے منہ سے گالیاں نکل جاتی ہیں۔بعض مصنف ہیں جو مخلص ہیں لیکن باوجود احتیاط کے ان کے قلم سے درشت الفاظ نکل جاتے ہیں۔اور جب سمجھایا جائے تو نہایت سنجیدگی اور متانت سے کہہ دیتے ہیں ہم نے تو کوئی سخت لفظ نہیں لکھا۔بچپن کی عادت کا نتیجہ ہے کہ وہ اس فعل کی مضرتوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس سے بچ نہیں سکتے۔حضرت خلیفہ اول الله فرماتے ہیں ایک شخص کی نسبت مجھے خبر دی گئی کہ وہ بہت گالیاں دیتا ہے۔ایک روز علیحدگی میں میں نے اسے نصیحت کی کہ میں نے سنا ہے آپ بہت گالیاں دیتے ہیں۔اس سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے انسان کے اپنے اخلاق بھی خراب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔وہ یہ سن کر بے اختیار نہایت گندی اور فحش گالی دے کر کہنے لگا کون کہتا ہے میں گالیاں دیتا ہوں۔تب میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص معذور ہے بلا ارادہ گالی اس کے منہ سے نکل جاتی ہے کیونکہ وہ چاہتا نہیں تھا کہ گالی دے مگر بے اختیار اس کے منہ سے گالی نکل گئی اور وہ محسوس بھی نہیں کرتا تھا۔کہ میں تو اب بھی گالی دے رہا ہوں۔تو جب انسان کو کسی عیب کی عادت ہو جاتی ہے پھر وہ اس عیب کو عیب ہی نہیں سمجھتا اور اگر سمجھتا ہے تو کرتے وقت اس کو محسوس نہیں کرتا۔ایسے لوگوں کو اگر سمجھایا جائے تو انکار کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا فعل نہیں کیا۔مجھے اس بات کا بہت تجربہ ہے۔کیونکہ ہر روز لوگوں سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے بہت لوگ ہیں جو ہمیشہ عیب چینی کرتے ہیں مگر وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں ہماری عادت نہیں کہ کسی کی عیب چینی کریں۔مگر یہ بات یوں ہے اور غالباً اگر وہ دن میں ہزار باتیں بھی دوسروں کی غیبت اور عیب چینی کی کریں۔تو ہر بار وہ ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ ہماری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی کی عیب چینی کریں۔حالانکہ سو میں سے پچاس باتیں ان کی عیب چینی کی ہوتی ہیں۔مگر وہ عیب چینی کرتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے کہ ہم عیب چینی کر رہے ہیں۔اگر بچپن میں ان کی اصلاح اور نگرانی کی جاتی تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔غرض بچپن کا زمانہ اخلاق فاضلہ کے سیکھنے کا بہترین موقع ہے۔اگر کوئی قوم اعلیٰ اخلاق اور پسندیدہ اعمال میں ترقی کر سکتی ہے تو اس کے لئے بہترین ذریعہ یہی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرے۔مگر اپنی نسل کی اصلاح اور اس کے اخلاق کی خاص نگرانی کرے۔بچپن کے زمانہ میں جہاں بچہ بہت جلد اور آسانی کے ساتھ اخلاق فاضلہ سیکھ سکتا ہے