خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 149

149 20 20 اخلاق کی درستی کے لئے بہترین زمانہ (فرموده ۲۹ مئی ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے جمعہ میں اخلاق فاضلہ اور اعمال کی درستی کے متعلق ایک ایسے دروازہ کا ذکر کیا تھا جس کے ذریعہ نیک اخلاق انسان کے قلب میں داخل ہو سکتے ہیں۔وہ نیک اعمال بجا لاتا ہے۔اور جس کے مخالف دروازے بند کرنے سے بد اخلاقی اور بد اعمالی سے محفوظ ہو جاتا ہے۔آج میں اس کے متعلق ایک اور اہم امر بیان کرتا ہوں جو میرے نزدیک اس سے بہت زیادہ اہم اور ضروری ہے۔کیونکہ میرے نزدیک اسے مد نظر رکھے بغیر کوئی قوم اپنے اخلاق اور اپنے اعمال کو درست اور صحیح نہیں بنا سکتی۔قبل اس کے کہ میں اس دوسرے دروازے کی حقیقت کو بیان کروں یہ کہہ دینا ضروری ہے کہ اخلاق اور اعمال کی درستی کے لئے صرف ارادہ ہی کر لینا کافی نہیں۔بلکہ اس کے ساتھ مشق اور محنت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔محنت اور مشق کے بغیر محض ارادہ کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔لیکن جہاں ارادہ کے ساتھ محنت اور مشق کا ہونا ضروری ہے اور بغیر محنت مشقت کے محض ارادہ بے فائدہ ہے۔وہاں پر یہ بات بھی ہے کہ وہ مشق اور محنت بھی خاص حالات اور خاص اوقات سے تعلق رکھتی ہے۔اور بہترین حالات اور واقعات میں سے جو اخلاق اور اعمال کی درستی کے لئے مناسب اور موزوں ہیں ان میں سے سب سے بڑھ کر بچپن کا زمانہ ہے۔بچپن کے زمانہ میں جس آسانی کے ساتھ ایک بچہ کسی کسب کو سیکھ سکتا اور اس کے لئے محنت اور مشقت کی تکلیف برداشت کر سکتا ہے۔بڑی عمر میں برداشت نہیں کر سکتا۔بچے کے احساسات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ محنت اور مشقت کو بہت کم محسوس کرتا ہے۔وہ اس خالی پیالے کی طرح ہوتا ہے جس میں ہر ایک چیز ڈالی جا