خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 135

135 کرتا بلکہ وہ بے حیائی اور بے شرمی کی وجہ سے روپوؤں کی خاطر ایسی ذلت گوارا کرتا ہے۔ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص جو اعتقاد سنی تھا ایک شیعہ بادشاہ کے پاس گیا اور اس سے کچھ مانگا۔وزیر نے سمجھ لیا یہ سنی ہے۔اس نے بادشاہ سے کہا اسے روپیہ نہ دیں۔یہ سنی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا معلوم کر لینا چاہیے۔اس پر وزیر نے کئی طریقوں سے پتہ لگانا چاہا کہ آیا یہ سنی ہے یا شیعہ۔مگر وہ گول مول جواب دے دیتا۔آخر وزیر نے کہا اس طرح تو کچھ پتہ نہیں لگتا اور معلوم یہ سنی ہوتا ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ تیرا کیا جائے۔یعنی حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان کو گالیاں دی جائیں۔بادشاہ نے کہا بر ہر سہ لعنت ہو یعنی نعوذ باللہ حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان تینوں پر لعنت ہو۔پھر وزیر نے کہا۔برہرسہ لعنت وزیر کے بعد اس شخص نے جو روپے مانگنے آیا تھا کہہ دیا برہرسہ لعنت۔جب اس طرح بھی اس کا سنی ہونا ظاہر نہ ہوا۔بادشاہ نے پوچھا کیا تم شیعہ ہو اس نے کہا نہیں میں شیعہ نہیں سنی ہوں۔بادشاہ نے کہا پھر تم نے تبرا کیوں کیا۔اس نے جواب دیا میں نے کہا ہے برہرسہ لعنت یعنی ہم تینوں پر جو یہاں بیٹھے ہیں لعنت ہو۔تم دونوں پر تو اس لئے کہ خلفاء کرام پر لعنت بھیجتے ہو اور مجھ پر اس لئے کہ میں واقعی لعنت کا مستحق ہوں کہ تمہارے پاس مانگنے آیا ہوں۔تو ایسے شخص کا صبر صبر نہیں کہلا سکتا۔ایسا شخص گالیاں سنتا اور اپنی ذاتی غرض پورا کرنے کی خاطر ہنس دیتا ہے۔پس ایسا کرنا صبر نہیں بلکہ بے حیائی ہے۔کیونکہ نفسانی اغراض کی خاطر ایسا انسان صبر کرتا اور گالیاں سنتا ہے۔ہاں کبھی قومی اور مذہبی اغراض کے لئے صبر کرنا پڑتا ہے اور یہ صبر نفسانی اغراض کے لئے نہیں ہوتا اس لئے صبر کہلاتا ہے۔مثلاً کسی ایسی جگہ جہاں اس کے بدلہ لینے کی وجہ سے اس کی قوم پر کوئی مصیبت آتی ہے وہاں اگر وہ حملہ کرتا ہے صبر نہیں کرتا تو اسے بیوقوف کہیں گے۔کیونکہ اس طرح وہ اپنی قوم کو نقصان پہنچاتا ہے۔لیکن جب وہ اپنی قوم کے نفع کے لئے بدلہ نہیں لیتا۔یا دین کو سے محفوظ رکھنے کی خاطر صبر کرتا ہے۔تو اس کا یہ صبر صبر کہلائے گا۔پس قومی طور پر صبر اس طرح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس واسطے دشمن کا مقابلہ نہیں کرتا اور چپ ہو رہتا ہے کہ اس کی قوم کو نقصان نہ پہنچ جائے تو اس کا ایسا کرنا صبر ہوتا ہے۔اور دین کے لئے صبر اس طرح ہوتا ہے۔مثلاً ہم کسی شخص کو تبلیغ کرتے ہیں اور وہ آگے سے ہمیں گالیاں دیتا ہے۔اگر ہم اس پر صبر کرتے ہیں اور گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیتے تو یہ صبر ہے۔کیونکہ ہم یہاں اس لئے صبر کرتے ہیں کہ مبادا ہمارے اسی رنگ کا جواب دینے یا سختی کے مقابلہ میں سختی سے پیش آنے پر یہ شخص آئندہ ہماری بات ہی نہ سنے اور ہمیشہ کے لئے گمراہ ہو جائے۔یا وہ خود اور دوسرے لوگ یہ خیال کر لیں کہ ہم میں نقصان سے۔