خطبات محمود (جلد 9) — Page 134
134 وہاں صبر کے یہی معنی ہوں گے کہ گھبرائے نہیں اور ہمت ہار کر بیٹھ نہ رہے۔لیکن بندوں کے مقابلہ میں اس کو بدلہ لینے کی مقدرت ہو اور پھر صبر کرے تو صبر صبر کہلانے کا مستحق ہو گا۔کیونکہ بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر صبر کرتا ہے۔اگر کوئی شخص قید میں کوٹھری کے اندر بند ہو۔کوئی رستہ اس کے نکلنے کا نہ ہو۔اور وہ کہے کہ میں صبر کر کے بیٹھا ہوا ہوں تو یہ اس کا صبر نہیں ہو گا۔کیونکہ اگر دروازہ کھلا ہوتا اور کوئی اس کو نہ روکتا تو ضرور وہ قید سے نکل جاتا۔اس کا اس وقت قید میں چپ چاپ بیٹھا رہنا اس سبب سے ہے کہ اس کے بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں۔پس اس کا یہ صبر صبر نہیں کہلائے گا۔انسانوں کے مقابلہ میں صبر ہمیشہ وہ ہوتا ہے جو عند القدرت ہو۔مگر شرط یہ ہے کہ انسان بزدل نہ ہو۔کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کمزور ہوتا ہے اس میں بدلہ لینے کی طاقت اور ہمت نہیں ہوتی۔وہ خیال کرتا ہے اچھا میں صبر کرتا ہوں یہ اس کا صبر نہیں ہوتا۔اسے ہم صبر نہیں کہیں گے۔بلکہ اس شخص کو بزدل کہیں گے۔صبر تو یہ ہے کہ وہ دیکھے مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ میں بدلہ لے سکوں۔لیکن پھر اگر ایسا شخص بدلہ نہیں لیتا اور صبر کرتا ہے تو یہ صبر ہے۔ورنہ ایک ایسے شخص کے دل میں جس کو کسی نے دکھ یا تکلیف دی ہو یہ جوش ہو کہ اگر میں مضبوط ہوتا تو اس کو خوب اچھی طرح پیٹتا وہ اگر بدلہ نہیں لیتا تو بزدل ہے اور اس نے صبر نہیں کیا بلکہ بزدلی دکھائی ہے۔اس نے بجائے صبر کا ثواب حاصل کرنے کے گناہ کیا۔صبر وہی ہے جو بدلہ کی مقدرت رکھتے ہوئے کیا جائے۔ہاں ایک کمزور شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی اس پر ظلم کرے تو خواہ ظلم کرنے والا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو وہ کے بادشاہ ہے تو کیا ہے میں بھی اس سے کسی نہ کسی طرح بدلہ لے سکتا ہوں۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے صبر کرو اس لئے صبر کرتا ہوں تو ایسے شخص کا صبر بھی واقعی صبر کہلانے کا مستحق ہو گا۔کیونکہ اس کی ہمت تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے خواہ میں خود مارا ہی جاؤں لیکن بادشاہ یا اور شخص جو مجھ پر ظلم کرتا ہے اسے بھی مزا چکھا دوں گا۔لیکن چونکہ خدا کا حکم ہے اس لئے صبر کرتا ہوں۔پس ایسا شخص بزدل نہیں بلکہ اس نے واقعی صبر کیا ہے۔صبر کرنے کی کئی وجہیں ہوتی ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی اغراض اور فوائد کے لئے صبر کرتے ہیں۔اور میں نے بتایا ہے ایسا صبر نیکی نہیں بلکہ گناہ ہے۔مثلاً ایک شخص کسی سے روپے مانگنے جاتا ہے اور وہ آگے سے اسے گالیاں دیتا ہے اور کہتا ہے تو بڑا بے حیا اور بے شرم ہے کہ روپے مانگنے کے لئے آگیا ہے۔لیکن وہ ہنس کر ٹال دیتا اور خیال کر لیتا ہے کہ مجھے اس وقت اس شخص سے کام ہے اس لئے اس کی گالیاں بھی سن لینی چا ہیں۔ایسا کرنے والا صبر نہیں