خطبات محمود (جلد 9) — Page 136
136 اور ان میں فرق ہی کیا ہے۔جب یہ لوگ بھی گالیوں پر اتر آتے اور سختی کے مقابلہ میں سختی سے گفتگو کرتے ہیں تو ان میں مرزا صاحب نے کیا تبدیلی کی کہ ہم بھی انہیں مان لیں۔اس وجہ سے بہت سے لوگوں کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔اور ہر وہ شخص جو ایسے حالات میں سختی سے پیش آتا ہے۔وہ ضرور کبھی دس کبھی سو اور کبھی ہزار شخصوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنتا ہے۔ایسے شخص کو ہم باغیرت نہیں کہیں گے۔کیونکہ وہ اپنے نفس کی غرض سے سختی کے مقابلہ میں سختی کرتا ہے اور دین کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔بعض شخص کہہ دیتے ہیں۔اس میں ہماری نفسانی غرض نہیں ہوتی۔ہم تو محض اس لئے سختی کا جواب سختی سے دیتے ہیں کہ وہ ہمارے دین کو برا بھلا کہتے ہیں۔یا ہمارے نبی کو گالیاں دیتے ہیں۔کیا ایسے وقت میں ہم چپ رہ کر بے غیرت بنیں۔مگر میں کہتا ہوں یہ بھی تو نفسانی غرض ہو جاتی ہے۔کیونکہ نبی کو جب ہم اپنا نبی کہہ لیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہمارا ذاتی تعلق ہو جاتا ہے اور دراصل ہمیں غصہ اس لئے آتا ہے کہ وہ ہمارے نبی کو گالیاں دیتے اور ہمارے دین کو برا کہتے ہیں۔اور ہمارے نبی اور ہمارے دین کو ہمارے ساتھ ذاتی تعلق ہے۔پس ایسے موقع پر اگر ہم (میر) نہیں کرتے ہیں تو گویا اپنے نفس کے دھوکہ میں آتے ہیں۔بعض لوگ نادانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تو اپنی کتابوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی کئی جگہ کفار اور دوسرے لوگوں کو نہایت سختی کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے۔مگر ایسے نادان یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے انبیاء کی شان اور ہوتی ہے۔ان کے یہ نظر لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے۔اگر وہ ان کی حالت ان پر ظاہر نہ کریں تو وہ اصلاح کی طرف کیونکہ متوجہ ہو سکیں۔اس کی کسی قدر مثال مجسٹریٹ سے دی جا سکتی ہے جو چوری کرنے والے کو چور کہتا ہے ڈاکہ ڈالنے والے کو ڈاکو کہتا ہے۔بد معاشی کرنے والے کو بد معاش کہتا ہے۔اس کا فرض ہے کہ کہے۔لیکن کسی اور کا حق نہیں ہے کہ کسی کو چور یا ڈاکو یا بد معاش کہے۔پس خدا تعالیٰ حقیقی مجسٹریٹ ہے۔اور نبی جو اس کی طرف سے دنیا میں آتے ہیں وہ اس کے قائم مقام ہوتے ہیں۔اس لئے وہ ایک مجرم کو مجرم کہہ سکتے ہیں۔اور یہ ان کا حق ہوتا ہے کیونکہ وہ دنیا کے لئے بحیثیت مجسٹریٹ ہوتے ہیں۔لیکن ہر شخص کا یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کو چور یا مجرم کہتا پھرے۔ایک مجسٹریٹ چور کو چور کہہ سکتا ہے۔مگر ہم اسے چور نہیں کہہ سکتے۔ہمارا کوئی حق نہیں کہ اسے چور کہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجسٹریٹ بھی چور کو چور نہ کہے۔کیا یہ ہو سکتا