خطبات محمود (جلد 9) — Page 42
42 7 مقصد کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہیں (فرموده بمقام پھیرو چیچی ۲۷ فروری ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول سورج کی طرح ہوتے ہیں۔جس طرح جس وقت سورج نکلتا ہے اس وقت تمام ظلمتیں اور اندھیرے دور ہو جاتے ہیں۔اسی طرح انبیاء کے نور اور ان کی شعاوں کے سامنے بے دینی اور اللہ تعالیٰ سے بعد بھی دور ہو جاتا ہے۔کسی چیز کا فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔دیکھو مکہ کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ کا انکار کیا اور اس نور کو اپنے اندر داخل نہ ہونے دیا۔مگر برخلاف اس کے مکہ سے بہت پرے مدینہ کے لوگوں کو آنحضرت ان کی نبوت کا سورج خود بخود منور کر گیا۔مکہ میں بہت سے لوگ تھے جنہوں نے اپنے دل کی کھڑکیاں بند کی ہوئی تھیں اور وہ نہ چاہتے تھے کہ یہ روشنی ہم تک پہنچے۔جس طرح ایک ملاح کشتی میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں کو بند کرتا ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی اس میں داخل نہ ہو۔اسی طرح وہ بھی اپنے دل کے ہر چھوٹے چھوٹے سوراخ کو بند کرنے کے لئے کوشش کرتے یا جس طرح ایک انسان ایک بوسیدہ کپڑے کو ذرا بھی پھٹا ہوا دیکھتا ہے تو وہ اس کو پیوند لگانے میں سستی نہیں کرتا۔یا جس طرح ایک مکان جس کی چھتیں خستہ حالی میں ہوں۔اس میں اگر چھوٹے سے چھوٹا سوراخ بھی ہو جائے تو وہ اس کو بند کرتا ہے۔اسی طرح مکہ کے لوگ بھی آنحضرت ا کے نور کو بند کرتے تھے۔یا جس طرح ایک شخص کی آنکھیں دکھ دے رہی ہوں تو وہ کمرے کے دروازے بند کر کے لحاف کے اندر گھس جاتا ہے کہ سورج کی کرنیں اس تک نہ پہنچیں۔اسی طرح مکہ والے بھی احتیاط کرتے کہ کہیں یہ نور ہم تک نہ پہنچ جائے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیرہ سال کی کوششوں کے بعد صرف اسی آدمی مسلمان ہوئے۔اور پھر ان میں سے اکثر وہ لوگ