خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 43

43 تھے جو آپ کے منشیں تھے۔مثلاً حضرت ابو بکر انہیں جب کسی نے آکر کہا کہ سنا ہے خدیجہ کا خاوند پاگل ہو گیا ہے اور کہتا ہے کہ میں نبی ہوں۔باقی لوگوں نے جب اس بات کو سنا تو وہ نہیں اور تمسخر کرنے لگ گئے۔ابو بکر وہاں سے اٹھے اور آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور تصدیق کے طور پر پوچھا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں خدا نے مجھے اپنا نبی بنایا۔آپ فوراً ایمان لے آئے۔اس وقت زیادہ تر وہی لوگ ایمان لائے جن کے راستہ میں کوئی روک نہیں تھی یا پھر باقی وہ لوگ تھے جن کے کان میں اتفاقی کوئی بات پڑ گئی اور پھر وہ مجبور ہو گئے کہ مان لیں۔مثلاً حضرت عمر گھر سے اس ارادہ سے نکلے کہ آپ کو قتل کر دیں۔راستہ میں کسی شخص نے پوچھا کہ عمر کہاں جا رہے ہوں۔غصہ سے کہنے لگے۔محمد کا فتنہ بہت بڑھ گیا ہے آج اس کو قتل کر کے ہی آؤں گا۔اس نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں اس دین کو قبول کر چکے ہیں عمر کہنے لگے۔اچھا تو پہلے میں ان کا ہی صفایا کرلوں۔یہ کہہ کر اسی وقت ان کے گھر روانہ ہوئے اور دروازہ پر دستک دی۔اس وقت آپ کی بہن اور بہنوئی ایک صحابی سے قرآن کریم سن پڑھ رہے تھے۔انہوں نے اس خیال سے کہ عمر تیز طبیعت کے آدمی ہیں ممکن ہے کوئی نقصان پہنچائیں۔صحابی کو چھپا دیا اور قرآن کریم کے اوراق بھی چھپا دیئے اور دروازہ کھول دیا۔حضرت عمر اپنے بہنوئی پر جھپٹے اور کہا کہ تم نے مذہب تو خراب کیا تھا میری بہن کو بھی خراب کیا اور اپنی بہن کو بھی زخمی کر دیا۔بہن بولی بھائی جس بات کو سن کر ہم نے اس دین کو قبول کیا ہے تم بھی سن لو۔آپس میں کتنی ہی دشمنی ہو پھر بھی بھائیوں کو بہنوں سے محبت ہوتی ہے۔بہن کے زخم سے خون بہتا دیکھا تو شرمندگی بھی آئی کہ میں نے عورت پر حملہ کیا۔کہا اچھا سناؤ تو سہی۔مگر بہن بولی تم ناپاک ہو پہلے اپنے آپ کو پاک کر لو۔حضرت عمر نے ایسا ہی کیا۔اس کے بعد صحابی کو بلایا گیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ وہ قرآن کریم سنائیں۔حضرت عمر نے پہلے تو تماشا کے طور پر چند آئتیں سنیں۔تھوڑی دیر کے بعد خاموشی سے گھر سے نکل آئے اور جس گھر میں آنحضرت ﷺ تھے وہاں پر جا کر دستک دی۔ایک صحابی کہنے لگے کہ عمر ہے کوئی فساد نہ کرے۔حضرت حمزہ کہنے لگے۔کھول دو اگر عمر فساد کرے گا تو ہم بھی بزدل نہیں آنحضرت نے دروازہ کھولا اور پوچھا کہ اے عمر یہ مخالفت کب تک رہے گی۔حضرت عمر کہنے لگے حضور ایمان لانے کے لئے ہی آیا ہوں تو حضرت عمر کا ایمان لانا ایک اتفاقی بات تھی کہ چند آئتیں ان کے کان میں پڑ گئیں۔حضرت عمر دعوے سے تین سال کے بعد ایمان لائے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سال کے عرصہ میں ایک آیت بھی ان کے کان میں نہ پڑی تھی۔جس سے پتہ