خطبات محمود (جلد 9) — Page 41
41 سالانہ سلسلہ میں لوگ داخل نہ ہوں ہماری ترقی خطرہ میں ہے۔ہمیں جلد سے جلد اس بات پر قادر ہونا چاہیے۔ایک لاکھ سالانہ کی رفتار سے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ سلسلہ میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے۔کہ جو اس کام کو جاری رکھ سکیں گے۔موجودہ حالت میں تو ہم یہ بھی امید نہیں کر سکتے۔پس جس طرح احباب سب چندہ دیتے ہیں اسی طرح ایک دو سال بھی اگر وہ سب اشاعت سلسلہ اور اخلاق کی درستی کی کوشش میں لگ جائیں۔جس کے ساتھ جماعت کے اندر ایک رو پیدا ہو جائے۔تو اس طرح ایسی تعداد پیدا ہو سکتی ہے کہ جو کام کو سنبھال سکیں۔اس لئے میں ان لوگوں کو جو خطبہ سنتے ہیں اور یہاں حاضر ہیں۔اور ان کو بھی جن تک یہ خطبہ پہنچے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ آج دل میں وعدہ کر لیں کہ اشاعت سلسلہ میں وہ ہمہ تن مشغول ہو جائیں گے۔اور اس فرض کو محسوس کر کے اپنی زندگیوں کو دین کے لئے وقف کریں گے۔اس کے بعد میں ان لوگوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں جن کے سپرد کام کا کوئی حصہ کیا گیا ہے کہ آج سے وہ پوری محنت اور کوشش سے کام کریں۔تمام افسروں اور سیکرٹریوں اور امیروں کا فرض ہے کہ وہ ایک نظام کے ماتحت کام کی سکیم تیار کریں اور پھر لوگوں سے اس کام کو پورا کرائیں۔اگر وہ ایسا نہ کریں تو جواب دہ ہیں۔موجودہ حالت میں تین چار ہزار آدمیوں کی سالانہ ترقی سلسلہ میں ہوتی ہے۔اگر دس ہزار سالانہ بھی ہو تو یہ بھی کم ہے۔کیونکہ اگر اس تعداد کو چھانٹا جائے تو بچے عورتیں اور پرانے احمدیوں کی اولاد کو نکال کر پانچ چار ہزار ہی رہ جاتے ہیں۔اگر ناظریت المال چندے پوری طرح فراہم نہ کریں تو دیکھیں دوسرے افسر کس طرح خاموش بیٹھے رہیں۔سب شور مچانے لگ جائیں۔لیکن مجھے تعجب ہے کہ اتنی تھوڑی تعداد جب وہ سلسلہ میں داخل ہوتی دیکھتے ہیں تو وہ شور کیوں نہیں کرتے اور افسر گھبراتے کیوں نہیں۔موجودہ ترقی تو بہت ست ہے۔اس سے پہلے حضرت مسیح موعود کے وقت جب کہ لوگ جوق در جوق اور فوج در فوج سلسلہ میں داخل ہوئے تھے۔ان کی کمی بھی موت فوت یا ارتداد وغیرہ کے ذریعے جو ہوتی تھی پوری کرنا مشکل تھی۔اللہ تعالٰی ہم کو توفیق دے کہ ہم اپنے فرائض کو سمجھیں اور ہم اپنے اوقات کو خدمت اسلام اور سلسلہ کی اشاعت میں صرف کریں۔خطبہ کے بعد حضور نے فرمایا کہ میں نماز کے بعد حکیم احمد حسین صاحب کا جنازہ پڑھوں گا۔حکیم صاحب شاعر تھے۔اکثر جلسوں میں شعر پڑھا کرتے تھے اور مخلص احمدی تھے۔ان کے بھائی کا خط آیا ہے کہ وہ علاقہ نماز میں فوت ہوئے ہیں اور ان کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ تھا۔اس لئے میں ان کا جنازہ پڑھوں گا۔الفضل ۲۱ فروری ۱۹۲۵ء)