خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 335

335 سکتا ہاں تھوڑی تھوڑی سمجھ لیتا ہوں۔میں ترکی بولتا ہوں۔میرے بچے ترکی بولتے ہیں اور میری بیوی ترکی بولتی ہے۔دیر تک اس سے گفتگو ہوتی رہی۔پھر سلسلہ کے متعلق ذکر آیا اور جب اس نے ہماری زبان سے یہ سنا کہ اس ملک کے مولویوں نے کہا ہے کہ احمدیوں کو یہاں تبلیغ نہیں کرنی چاہئے۔تو حیران ہو کر کہا۔سمجھ میں نہیں آسکتا کہ کس طرح وہ لوگ احمدیوں کو جو کہ اسلام کا ایک فرقہ ہے۔یہاں تبلیغ کرنے سے روک سکتے ہیں۔حالانکہ اس ملک میں غیر اسلامی لوگوں کے مشن قائم ہیں۔عیسائیوں کے مشن یہاں ہیں۔یہودیوں کے مشن یہاں ہیں۔پھر ان کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے ایک ایسے فرقہ کے لئے جو خالص مذہبی ہو۔کیو نکر یہ لوگ روک پیدا کر سکتے ہیں۔غرض دیر تک اس سے مختلف امور پر پر گفتگو ہوتی رہی اس کی گفتگو سے یہی پایا گیا کہ وہ بھی فرانس والوں کی حکومت کے برخلاف تھا۔اس ملک میں کسی افسر یا حاکم یا گورنر کا تقرر چونکہ ملک کے انتخاب کے ماتحت ہوتا ہے۔اس لئے ملک کی عام رو کے مطابق اس کی رائے بھی فرانسیسیوں کے برخلاف تھی اور اس کا میلان بھی یہی تھا کہ ملک کو آزادی حاصل ہونی چاہئے۔غرض اسی طرح ملک میں مختلف رائیں تھیں۔اور ان میں سے بیشتر حصہ کی رائے فرانسیسیوں کے برخلاف تھی۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ملک میں تین سکے چلتے تھے۔فرانسیسی نوٹ جو دو دو پیسے کے تھے اور ان کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ہمارے ہاں پانچ پانچ روپے تک کے نوٹ ہیں۔جب ایک ایک روپے کے نوٹ چلے تو شور پڑ گیا اور آخر وہ بند کر دئے گئے مگر فرانس کے دو دو پیسے کے نوٹ چلتے تھے۔فرانسیسی نوٹ کی عام طور پر کوئی قدر نہ تھی ان نوٹوں کے سوا ترکی سکہ بھی چلتا تھا اور مصری سکے بھی مروج تھے۔ان سب میں سے مصری سکہ سب سے زیادہ چلتا تھا۔بازار میں فرانسیسی نوٹ لے کر سودا لینے جاؤ تو دکاندار نوٹ کے عوض سودا دینے سے انکار کر دیتے اور کہتے۔ترکی یا مصری سکہ لاؤ۔اس پر صراف کی دوکان پر جا کر بٹہ دے کر سکہ لینا پڑتا۔پھر اگر ڈاک خانہ میں ٹکٹ خریدنا چاہیں تو وہ نہ ترکی سکہ لیتے نہ مصری۔کہتے نوٹ لاؤ۔اس کے بدلے میں ٹکٹ مل سکیں گے۔یہی حال ریلوے والوں کا تھا۔وہ بھی کوئی سکہ نہ لیتے بلکہ فرانسیسی نوٹ لیتے۔اگر کوئی شخص مصری یا ترکی سکہ لے کر ریلوے یا ڈاک خانہ میں جائے تو وہ اسے لوٹا دیتے۔اس لئے پھر صرافوں کی دکانوں پر آنا پڑتا اور پھر کمیشن دے کے سکوں کے بدلے نوٹ لینے پڑتے۔ان میں سے جتنے وہاں خرچ ہوں۔وہ تو خیر کام آئے۔بقیہ نوٹ سب ضائع گئے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں ہر دو تین دکانوں کے بعد صراف کی دکان نظر پڑتی ہے۔