خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 336

336 ان باتوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ ملک اس بات پر آمادہ ہے کہ آزادی حاصل کرے۔یہ فساد جو اس وقت پیدا ہوا۔اسی روح کا نتیجہ ہے جو اس ملک میں اس وقت پیدا ہو رہی تھی۔چنانچہ دروز نے جب مدد کے لئے مسلمانوں کو بلایا تو سارا شام اسی روح کے ماتحت ان کی مدد پر کھڑا ہو گیا۔بے شک شام میں مختلف آراء کے رکھنے والے لوگ ہیں۔مگر ان کی آراء کے اس اختلاف کے نیچے سوائے اس روح کے جو آزادی کی روح ہے اور کوئی روح کام نہیں کر رہی اور یہ وہی روح ہے جس نے ایک پہاڑی قوم کی آواز پر سب کو بیدار کر دیا اور وہ آزادی کے لئے جمع ہو گئے۔خواہ ان کے متعلق کوئی کچھ ہی کے مگر یہ بات ہر ایک شخص کو ماننی پڑے گی کہ شام کی جدوجهد آزادی درست ہے۔فرانسیسیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی یہ کوشش درست ہے۔ہر ایک شخص کو آزاد رہنے کا حق ہے اور ہر ایک شخص کی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ غیر کی غلامی میں نہ پھنسے اور اگر پھنس جائے تو نجات حاصل کرے۔اس لئے میری رائے میں شام کو ایک حد تک آزادی ملنی چاہئے۔پس میں جہاں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو ظاہر فرمایا اور اپنے اس کلام کو پورا فرمایا۔جو تقریباً ۲۵ سال آج سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔وہاں میں اس ظلم کے لئے جو شام پر کیا گیا شام سے دلی ہمدردی رکھتا ہوں۔شام والے مظلوم ہیں اور ان کی وفاداریوں اور جانبازیوں کا اچھا صلہ ان کو نہیں دیا گیا۔انہوں نے اپنی جانیں دے کر اتحادیوں کو فتح دلانے کی کوشش کی مگر جب ان کی باری آئی تو بجائے حسن سلوک کے ان پر ظلم کیا گیا۔ان کی جائیں تباہ کی گئیں۔ان کا ملک ویران کیا گیا۔ان کے مال برباد کئے گئے۔پس وہ مظلوم۔پس وہ مظلوم ہیں اور میں ان مظلوموں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہوں۔بہر حال یہ تاریخ کا ایک نہایت تاریک واقعہ ہے۔جس کی نظیر تاریک در تاریک زمانوں اور تاریک در تاریک حالات میں بھی ملنی مشکل ہے۔اس واقعہ کی نوعیت پر اگر غور کیا جائے تو تھوڑی سے تھوڑی عقل رکھنے والا شخص بھی سمجھ لے گا کہ کسی تاریک واقعہ کی مثال اس واقعہ سے بڑھ کر دنیا میں نہیں مل سکتی۔یہاں تو ستاون گھنٹہ تک گولہ باری کی گئی۔حالانکہ گزشتہ جنگ یورپ میں جرمن کا کوئی گولہ اگر اتفاقاً کسی شہر پر آکر گرا۔تو ان لوگوں نے شور مچانے پر اپنی ساری طاقت صرف کر دی۔مثلاً ”ورڈن" کے حملہ کے وقت ایک گولہ اتفاقیہ طور پر شہر پر آگرا تھا۔اس گولے کا گرنا تھا کہ ان کے چھوٹے اور بڑے۔بوڑھے اور جوان سب نے شور مچا دیا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے