خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 262

262 مانگنے کے خلاف تھے۔پھر حضرت مرزا صاحب کی شرک کے خلاف آواز بلند کرنے میں کیا خصوصیت ہوئی لیکن یہ کہنے والے اتنا نہیں سوچتے کہ اگر وہابیوں کے اس قسم کے خیال اس بات کی دلیل ہو سکتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تو پھر ایک عیسائی کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ کہدے تاریخوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت ا سے پہلے کئی آدمی تھے۔جو توحید کی تعلیم دیتے تھے۔۔۔پس جب ان سے پہلے بھی توحید کی تعلیم دینے والے موجود تھے تو آنحضرت ﷺ کی اس میں کیا خصوصیت ہوئی مثلاً آنحضرت ﷺ سے پہلے توحید کی تعلیم دینے والوں میں سے حضرت عمر کے چچا تھے جو بتوں کی پرستش سے ہٹا کر لوگوں کو خدا کی پرستش کے لئے کہتے تھے۔اور انہیں اس پر گھمنڈ بھی تھا کہ میں توحید کی تعلیم پھیلا رہا ہوں۔اگر خدا نے نبی بنانا ہو تا تو مجھے بنا تا۔اس کا جو جواب عیسائیوں کے لئے ہو گا۔وہی جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہمارا ہے اور جس طرح آنحضرت ﷺ ہی باوجود توحید کے تعلیم دینے والوں کے ہوتے ہوئے حقیقی طور پر توحید کے تعلیم دینے والے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی باوجود ان لوگوں کے موجود ہونے کے (اگر ان کے متعلق یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ توحید کے دیتے تھے) حقیقی طور پر تعلیم توحید دینے والے تھے مگر میں جانتا ہوں کہ مولوی لوگ آنحضرت کے متعلق عیسائیوں کے اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکیں گے۔اس لئے وہ جو اب الليل بھی میں خود ہی دے دیتا ہوں۔بات دراصل یہ ہے کہ لوگوں کا منہ سے کہہ دینا شرک نہ کرو اور توحید پر قائم رہو اور توحید فی الواقع پھیلانا ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے اور اتنا ہی فرق ہے۔جتنا ان باتوں میں ہے کہ ایک شخص تو بیمار سے کہے میاں علاج کر اور دوسرا اسے بیماری کا نسخہ لکھ کر دے دے کہ اسے استعمال کر۔وہ لوگ جو آنحضرت ا سے پہلے توحید پھیلاتے نظر آتے ہیں۔وہ صرف علاج کرو کہتے تھے۔لیکن رسول کریم ﷺ نے آکر نسخہ لکھ دیا اور بتایا کہ توحید یہ ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے بھی لوگ یہ کہتے تھے کہ شرک نہیں کرنا چاہیے اور توحید کا قائل ہونا چاہیے لیکن وہ جانتے نہیں تھے کہ توحید کیا ہے۔ایسے لوگوں میں سب سے پیش پیش وہابی تھے مگر انہیں حقیقی توحید سے کوئی تعلق نہ تھا۔کیا وہ لوگ بھی توحید سمجھ سکتے ہیں جو یہ مانیں کہ حضرت مسیح ناصری نے بھی پرندے پیدا کئے تھے۔حالانکہ خلق کرنے کی صفت صرف خدا تعالیٰ ہی کی ہے۔پھر کیا وہ لوگ توحید کی حقیقت پا سکتے ہیں۔جو یقین