خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 263

263 رکھتے ہوں کہ مسیح ناصری مردے زندہ کیا کرتے تھے۔حالانکہ دنیا میں مردوں کا زندہ ہونا سنت اللہ کے خلاف ہے۔پھر کیا وہ لوگ توحید جان سکتے ہیں جو ایک انسان میں دیگر خدائی صفات مانتے ہوں۔مثلاً ان وہابیوں کے نزدیک حضرت مسیح کو بھی اسی طرح علم غیب حاصل تھا۔جس طرح خدا تعالیٰ کو ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام لوگوں کا روزانہ کھایا پیا بتا دیا کرتے تھے۔بے شک وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح یہ سب کچھ باذن اللہ کرتے تھے۔لیکن مشرکین میں سے کون ہے جو باذن اللہ نہیں لگاتا۔عیسائی - ہندو اور دوسرے تمام اس قسم کے عقائد رکھنے والے سب یہی کہتے ہیں کہ جنہیں وہ خدا کا شریک بناتے ہیں۔وہ سب باذن اللہ خدائی کا کام کرتے ہیں پس جب مشرک بھی باذن اللہ کہتے ہیں اور باوجود باذن اللہ کہنے کے ان کے اس قسم کے کاموں اور عقیدوں کو دیکھ کر انہیں مشرک کہا جاتا ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ مسلمان کہلانے والوں کو مشرکانہ عقائد رکھنے کی وجہ سے اس لئے مشرک نہ کہا جائے کہ وہ حضرت مسیح کے متعلق باذن اللہ کے الفاظ لگاتے ہیں۔بات یہی ہے کہ دونوں مشرک ہیں ایک پر ذرا پردہ پڑا ہوا ہے اور دوسرے پر بالکل نہیں۔البتہ زر لتشتی کہتے ہیں کہ خدا دو ہیں ایک نیکی کا خدا اور دوسرا شرکا۔لیکن ان کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ آخر شر کا خدا تباہ ہو جائے گا اور نیکی کا خدا رہ جائے گا۔پس بدی کے خدا کی ہلاکت بتاتی ہے کہ وہ کسی اور کے ماتحت ہے۔جو اس کو ہلاک کر دے گا۔اسی طرح جو باقی رہ جائے گا وہ نیکی کا خدا ہو گا۔اصل خدا ہر مزکو مانتے ہیں اور اہرمن اور یزدان دو اور خدا قرار دیتے ہیں مگر ان کے کام جو بتاتے ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جبرائیل اور عزرائیل کی طرح سمجھتے ہیں۔یعنی جبرائیل اور عزرائیل فرشتوں کو انہوں نے یہ نام دے دیتے ہیں اور بطور خدا ان کو مانا شروع کر دیا ہے۔اصل میں وہ بھی ایک ہی خدا قرار دیتے ہیں لیکن باوجود اس کے اذن اللہ کہنے کا ہر ایک میں دستور پایا جاتا ہے۔حتی کہ مشرک مقلد قبروں پر سجدے کرنے والوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔تو اذن اللہ کہنے والوں کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح وہ مشرک نہیں ہوتے۔سید عبد القادر جیلانی کے مرید بھی یہی اذن اللہ کہا کرتے ہیں مگر ان کے مشرکانہ خیالات سے کون ناواقف ہے۔پس وہابیوں کا فریق بڑا ہی توحید کا مدعی تھا اور ہے مگر وہ بھی شرک سے پر ہے جیسا کہ ابھی میں نے ان کے حضرت مسیح کے متعلق عقائد سے بتایا ہے۔یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے۔جنہوں نے خاص توحید کو پیش کیا اور مسیح علیہ السلام کی حیات کی تردید کر کے اس شرک کو مٹا دیا۔جو اس مسئلے کی وجہ سے عام طور پر کچھیلا ہوا تھا۔