خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 261

261 ال اور پس وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کے اس کام کو جنون کہتے ہیں کہ آپ ہر وقت خدا کہتے رہے وہ بھی اس بات کے تو قائل ہیں کہ آنحضرت ا کا اہم ، بڑا اور پہلا کام خدا کو اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو منوانا تھا۔یہ جنون ہی سہی مگر یہ وہی چیز ہے کہ اس جنون کے رکھنے والے کو بعد کے لوگوں نے کامل سمجھا اور اگر کامل نہ سمجھا تو کم از کم اتنا تو یقین کیا کہ ایسا شخص برا نہیں ہو سکتا جو دن رات خدا خدا کرتا رہے اور اس کو اس کی وحدانیت کو اور اس کی صفات کو منوانے کی دھن میں، ہر وقت لگا رہے بہر حال آنحضرت ﷺ کی اس حالت کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور تمام انبیاء کی دنیا میں آنے کی غرض یہی ہوتی ہے۔کہ شرک مٹائیں اور خدا تعالیٰ کو منوائیں۔اس کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلا دیں۔اسی کام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی مبعوث ہوئے۔جس وقت حضرت مسیح موعود مبعوث ہوئے۔آپ کے آنے سے پہلے شرک ایسا پھیل گیا تھا کہ توحید گویا کبھی دنیا میں آئی ہی نہ تھی اور آپ کے ذریعے خدا نے پھر توحید قائم کی۔خدا تعالیٰ کی محبت مسلمانوں کے دلوں سے اٹھ گئی تھی۔نہ صرف وہ ایمان اس پر نہیں رہا تھا جو آنحضرت نے پیدا کیا تھا بلکہ لوگ اسے چھوڑ کر اوروں کی پرستش میں لگے ہوئے تھے۔اس کی وحدانیت کو بھی بھلا بیٹھے تھے۔حضرت مسیح موعود جب تشریف لائے۔تو آپ نے خدا کے حکم کے ماتحت سعید روحوں کو صراط مستقیم دکھلایا۔ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ڈال دی اور شرک سے ہٹا کر اس کی طرف لگا دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی توحید کو دنیا میں پھیلا دیا۔اور اب جب تک مسلمان کہلانے والے آپ کے بتائے ہوئے طریق پر نہیں چلیں گے اور اپنے خیالات اور اعتقادات کی اصلاح نہ کریں گے۔تب تک اس شرک سے نکل کر جس میں وہ پھنسے ہوئے ہیں توحید پر قائم نہیں ہو سکیں گے۔غرض دنیا آپ کے آنے سے پہلے طرح طرح کے شرکوں میں پھنسی ہوئی تھی اور تو اور خود مسلمان بھی اس سے نہیں بچے ہوئے تھے۔خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے لگ گئے تھے۔کوئی نہیں تھا جو انہیں سیدھا راستہ دکھاتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مبعوث ہو کر شرک سے بچنے کا طریق بتایا۔اور خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کیا۔ممکن ہے۔کوئی کہہ دے وہابی بھی تھے جو شرک مٹا رہے تھے۔قبروں کی پرستش سے روکتے تھے۔قبروں پر دیے جلانے سے منع کرتے تھے۔مردوں سے حاجتیں طلب کرنے اور مرادیں