خطبات محمود (جلد 9) — Page 250
250 نکالنا چاہیے میں نہیں سمجھتا اگر کوئی کسی سے آکر کہے کہ تیرے باپ کی قبر گرا دی گئی ہے تو وہ اطمینان سے بیٹھا رہے گا اور کہے گا میں تمہاری بات پر اعتبار نہیں کرتا جب مجھے یقین آجائے گا کہ قبر گرائی گئی ہے تب جا کر دیکھوں گا۔بلکہ اسی وقت اس کا چہرہ متغیر ہو جائے گا اور وہ دیوانہ وار بھاگ پڑے گا اسی طرح اگر ایک عورت سے کہا جائے کہ تیرے بچے کو بھینس نے مار دیا ہے تو وہ آرام سے نہ بیٹھی رہے گی بلکہ فورا بھاگ کر اپنے بچے کے پاس پہنچنے کی کوشش کرے گی۔حالانکہ بھینس کا بچہ کو مار دینا اتنا قرین قیاس نہیں۔جتنا نجدیوں کی گولہ باری سے روضتہ الرسول کو نقصان پہنچنا ہے مگر اس کے متعلق کہا جاتا ہے اطمینان سے بیٹھے رہو۔میں ان لوگوں کے ساتھ متفق نہیں جو کہتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی حرمین پر حملہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ میرے نزدیک ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جن میں حملہ ہو سکتا ہے لیکن مقامات مقدسہ کی حفاظت ہر حال میں لازمی ہے۔پہلے زمانوں میں چونکہ تیروں سے جنگیں ہوا کرتی تھیں۔اس لئے عمارتوں کا نقصان نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اب گولوں کے ساتھ جنگیں ہوتی ہیں جن سے جانوں کا بھی نقصان ہوتا ہے اور عمارتوں کا بھی۔اس لئے اب لڑائی کے وقت مقامات مقدسہ کے احترام کو خاص طور پر مد نظر رکھنا ضروری ہے اگر چہ ہم اپنے خیال کے مطابق مجبور ہیں کہ یہ مانیں کہ اللہ تعالیٰ خود حرمین کی حفاظت کرے گا اور انہیں گزند سے بچائے گا مگر جو مقامات مقدسہ کے احترام کا خیال رکھے بغیر گولہ باری کرتا ہے۔وہ اپنے خیال میں انہیں گراتا ہے اور باوجود اس عقیدہ کے کہ خدا تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے گا ہو سکتا ہے کہ انہیں نقصان پہنچ جائے۔کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اپنے اعتقاد کے موافق خیال کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا لیکن بعض اسباب ایسے پیدا ہو جاتے ہیں اور بعض ایسے مخفی مصالح ہوتے ہیں جن تک انسانی عقل کی رسائی نہیں ہوتی۔اس لئے ان کے ماتحت خیال کے خلاف بات ہو جاتی ہے۔مثلا" صحابہ خیال کرتے تھے کہ رسول کریم اتا ہے فوت نہیں ہو سکتے۔جب تک تمام کے تمام منافقین دنیا سے نابود نہ ہو جائیں لیکن خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان کا یہ خیال غلط ثابت کر دیا۔رسول کریم و تو فوت ہو گئے۔لیکن منافق باقی رہ گئے۔صحابہ کا یہ خیال ہی اس کی وجہ ہوا کہ حضرت عمر کو حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات کے موقع پر تلوار لے کر یہ کہتے ہوئے کھڑا ہونا پڑا کہ جو یہ کہے گا کہ نبی کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں میں اس کا سر کاٹ دوں گا۔پس ہم یہ استدلال تو کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی خود حرمین کی حفاظت کرے گا لیکن اس استدلال کے غلط ہونے کی بھی گنجائش ہے۔