خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 249

249 کی محبت درمیان میں نہیں ہے۔خلافت کمیٹی کا ایک پرانا حربہ ہے اور وہ یہ کہ سارا قصور دوسرے کے سر پر دھر دیتی ہے میں حیران تھا کہ اس وقت تک اس نے یہ حربہ کیوں استعمال نہیں کیا مگر آخر اس نے اسے چلا ہی دیا۔چنانچہ شوکت علی صاحب نے یہ کہہ دیا ہے کہ روضہ رسول ان پر جو گولیاں لگی ہیں۔وہ نجدیوں کی نہیں ہو سکتیں بلکہ انہی کی ہوں گی جو مدینہ پر قابض ہیں یعنی ہا شمیوں کی۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر ہاشمیوں کو یہ منظور تھا کہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو نجدیوں کے برخلاف بھڑکائیں تو یہ غرض تو اس طرح بھی پوری ہو سکتی تھی کہ یونسی ایسی باتیں مشہور کر کے لوگوں میں جوش پیدا کرتے رہتے۔گولہ باری کر کے اور نقصان پہنچا کر جوش دلانے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور اگر مدینہ کے ارد گرد کے لوگوں کو جوش دلانا مقصود تھا تو اس کے لئے خود نقصان پہنچا کر جوش دلانا ناممکن تھا کیونکہ وہ فوراً پتہ لگا سکتے اور خود مدینہ کے لوگ شہادت دے سکتے تھے کہ کس نے گولیاں چلائی ہیں۔پس یہ بات قطعاً قابل قبول نہیں ہے کہ ہاشمیوں نے روضہ رسول کریم ﷺ پر گولیاں چلائیں اور اہل مدینہ کے حالات سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والا یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ وہ ایسے فعل قبیح کے مرتکب ہوئے ہوں۔مدینہ کے لوگوں میں بیشک ہزاروں کمزوریاں ہیں مگر وہ ہمیشہ سے رسول کریم اے کے عاشق اور شیدا چلے آئے ہیں اور تمام تاریخیں اس پر گواہ ہیں اور بڑے زور سے بیان کرتی ہیں کہ وہ آپ کی محبت میں سرشار ہیں اور جو محبت میں اتنے سرشار ہوں ان سے کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ روضہ مبارک یا مسجد نبوی پر گولیاں چلا ئیں۔دراصل یہ خوے بد را بہانہ ہائے بیسار کی مثال ہے کہ جرم تو کسی نے کیا اور الزام دوسروں کے سر پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چونکہ محبت رسول کا سوال نہیں۔امیر علی کی مخالفت کا سوال ہے اس لئے جا و بے جا ہر قسم کی حرکات کی جا رہی ہیں۔اس وجہ سے کہ شوکت علی صاحب کے ایک بھائی جو ہمارے ساتھ شامل ہیں انہیں دیکھ کریا اس کی وجہ سے کہ وہ اکثر قومی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں۔میں سمجھتا تھا ان کے دل میں رسول کریم ﷺ کی محبت ضرور ہے۔لیکن اس واقعہ سے میں سمجھتا ہوں شوکت علی صاحب کے دل میں حب رسول اللہ ہرگز نہیں ہے وہ ایک طرف تو روضہ رسول کی توہین کی تردید کر رہے ہیں اور دوسری طرف یہ تلقین کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو جوش نہیں دکھانا چاہیے۔صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے اور اصل حالات معلوم ہونے تک جو خدا جانے کب معلوم ہوں۔ایک لفظ بھی منہ سے