خطبات محمود (جلد 9) — Page 251
251 اگر یہ ہماری رائے کہ حرمین کی ظاہری رنگ میں حفاظت ضروری ہے۔درست نہیں اور اس کے اندر کوئی اور بات ہو جسے ہم نہ سمجھ سکتے ہوں اور جو ہو ہماری کوششوں سے وابستہ تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ یہ فیصلہ کرے کہ مسلمان جب خود نہیں حفاظت کرتے تو ہم کیوں کریں لیکن خواہ کچھ بھی ہو اگر خدانخواستہ روضہ رسول کریم ﷺ کو نقصان پہنچا۔تو صدیوں تک مسلمان دنیا کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں ہو سکتے۔خانہ کعبہ تو کئی دفعہ گرا اور بنا۔لیکن رسول کریم لایا ہے کی قبر کو اگر نقصان پہنچا تو پھر اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔الله جب تک جنگوں میں گولے استعمال نہیں کئے جاتے تھے اس وقت اس کا اتنا خطرہ نہیں تھا لیکن اب جبکہ گولوں کا استعمال عام ہو رہا ہے۔تو یہ خطرہ بھی پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے آج کل کے تو پخانہ کا گولہ تو پچاس پچاس گز زمین اڑا کر لے جاتا ہے اور نہایت گہری خندقیں پیدا کر دیتا ہے۔جرمن اور فرانس کی جب لڑائی ہوئی تو اس میں اس قسم کے گولوں نے جو کام کئے ان سے پتہ چلتا ہے کہ جانیں تو جانیں عمارتوں کو بھی نقصان پہنچانے کے لئے یہ ایک نہایت ہی خطرناک شے ہے۔جرمنی کے ولی عہد کو لوگ یونہی بد نام کرتے ہیں۔دراصل وہ اپنے ملک کا بڑا خیر خواہ تھا۔ایک دفعہ جب فرانس کے مقابلہ میں بعض مصلحتوں کی بناء پر جرمنی کو پسپا ہونے کی ضرورت محسوس ہوئی۔تو جو افسر انچارج اس وقت تھا اسے ولی عہد جرمنی نے کہا کہ تم فوج کو لیکر نکل جاؤ اور میں دشمن کے حملہ کو روکوں گا۔یہ طریق اس لئے اختیار کیا جاتا ہے کہ فوج کا بہت بڑا حصہ صحیح و سلامت پیچھے ہٹ جائے اور تھوڑا سا حصہ دشمن کا مقابلہ کرکے واپس ہونے والی فوج پر حملہ کرنے سے روکے رکھے۔یہ کام نہایت خطرناک اور بڑی بہادری کا ہے۔ولی عہد جرمنی نے تھوڑی سی فوج کے ساتھ یہ کام اپنے ذمہ لیا اور اس وقت جو طریق فرانس کی فوجوں کو روکنے کا ستعمال کیا وہ یہی تھا کہ گولہ باری کرکے زمین میں اتنے اتنے گہرے گڑھے ڈال دیتا کہ فرانسیسی وہاں پہنچتے تو انہیں گڑھوں سے گزرنے کے لئے پل بنانے پڑے اس طرح انہیں دیر لگ جاتی اور ولی عہد اور پیچھے ہٹ کر پھر گڑھے ڈال دیتا اور بعض موقع پر تو اتنے گہرے گہرے گڑھے پیدا ہو جاتے کہ نیچے سے پانی نکل آتا تھا اور فرانسیسی فوج جب وہاں پہنچتی تو پھر اسے انہیں عبور کرنے کے لئے پل وغیرہ باندھنے پڑتے تھے۔اس طرح اس نے فرانس والوں کو روکنے کی کوشش کی تو جو گولے زمین میں اتنے اتنے شگاف پیدا کر سکتے ہیں کہ زمین کے نیچے سے پانی نکل آئے۔کیا وہ یہ نہیں کر سکتے کہ روضہ مبارک کو چکنا چور کر دیں بلکہ اس کی زمین تک کو اڑا دیں۔پس اگر خدانخواستہ نجدیوں کی اس اندھا دھند گولہ