خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 133

133 دوسرے معنی صبر کے یہ ہیں کہ انسان جزع فزع نہ کرے۔جب کوئی مصیبت اس پر آپڑے تو گھبرائے نہیں اور ہمت نہ ہارے۔اگر اس کا کوئی عزیز مرتا ہے۔یا اس کا مال کھویا جاتا ہے۔یا اور اسی قسم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس امر کو مد نظر رکھے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کا نہیں بلکہ بطور انعام خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہوا ہے۔یہ ایسا صبر ہے جو دوسروں کے مقابلہ میں کام کرنے میں کام آتا ہے۔تاکہ اگر دوسرے لوگ اس کو کسی قسم کا دکھ یا تکلیف دیں تو یہ گھبرائے نہیں۔پھر اس کی بھی آگے دو قسمیں ہیں۔ایک ان معاملات میں صبر کرنا۔جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور بندوں کا ان میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔اور دوسرے ان معاملات میں جو بندوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔جو معاملات اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کی مثال اس طرح ہے مثلاً ایک شخص کا کوئی رشتہ دار فوت ہو گیا یا بیمار ہو گیا۔یا ملک میں قحط پڑ گیا۔یا کوئی ایسی جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے اس کے کاروبار میں گھانا پڑ گیا۔یہ ایسے واقعات ہیں کہ ان میں اس کا کوئی دخل نہیں۔ان میں خدا تعالیٰ کی رضا پر استقلال کے ساتھ قائم رہنا صبر کہلاتا ہے۔لیکن ایسے معاملات جو بندوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔وہ اس طرح ہوتے ہیں کہ یہ ہاتھ پاؤں ہلا سکتا ہے۔لیکن پھر بھی اگر کوئی شخص اس پر سختی کرتا اور اس کو دکھ دیتا ہے تو یہ چپ رہتا ہے۔مثلاً کوئی شخص اس کو تھپڑ مارتا ہے تو یہ آگے سے بولتا نہیں۔خدا تعالیٰ تو اگر اس کی جان بھی لے لے تو یہ بول نہیں سکتا اور نہ کسی قسم کا مقابلہ کر سکتا ہے۔لیکن اگر ایک انسان اس کو تھپڑ مارتا ہے۔تو یہ بھی مناسب موقع پر کارروائی کر سکتا ہے۔اگر اس کو تھپڑ مارنا ہی مناسب ہو تو تھیٹر مار سکتا ہے۔لیکن اگر اس وقت تھپڑ مارنا قومی فوائد کے لحاظ سے یا اس شخص کی اصلاح کی غرض سے مناسب نہ ہو تو تھپڑ نہیں مارتا۔یہ بھی صبر میں داخل ہے۔پس بعض مواقع جہاں تھپڑ مارنا ضروری اور مفید ہوتا ہے۔وہاں اس کو چاہیے کہ ضرور تھپڑ مارے اور بعض مواقع جہاں تھپڑ مارنا مفید نہ ہو۔وہاں اس کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ تھپڑ نہ مارے۔لیکن اس حالت میں ایک شرط ہو گی اور وہ یہ کہ یہ بزدل نہ ہو۔اور اس وجہ سے چپ نہ ہو کہ یہ بھی مجھے آگے سے مارے گا۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں تو اس کا چپ رہنا اور صبر کرنا عدم مقدرت پر مبنی ہو گا۔لیکن انسانوں کے مقابلہ میں اس کا صبر عند المقدرت ہو گا۔وہ بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے لیکن اس لئے بدلہ نہیں لیتا کہ شائد بدلہ نہ لینے سے کوئی مفید نتیجہ نکل آئے۔تو یہ اس کا صبر کہلاتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں تو یہ بدلہ کی مقدرت ہی نہیں رکھتا۔وہاں اس کا چپ رہنا یا نہ رہنا برابر ہو گا۔اس لئے