خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 132

132 ہوا۔تو یہ صحیح نہیں۔کیونکہ ہاتھ ہلانا بے شک طبعی امر ہے۔لیکن اس لئے کہ انسان کام ہاتھوں سے کرتا ہے۔نہ اس لئے کہ ان سے پیٹا جائے۔پس آنسو بہانا ایک طبعی امر ہے۔اور صبر کا یہ مفہوم بالکل غلط ہے کہ انسان کسی مصیبت اور دکھ کے وقت آنسو نہ بہائے۔پھر بعض کے نزدیک صبر کے یہ معنی ہیں کہ کوئی شخص اگر کسی پر ظلم کرے تو وہ شخص جس پر ظلم ہو رہا ہے وہ چپ کر کے بیٹھا رہے۔یا وہ شخص جس کے حقوق چھینے جا رہے ہوں وہ کوئی ایسی تدبیر نہ کرے کہ جس سے اس کا حق اس کو مل جائے۔حالانکہ صبر کے یہ بھی معنی نہیں ہیں کہ انسان اپنے حقوق کو چھوڑ دے۔کیونکہ حقوق کی نگہداشت بھی شریعت کی رو سے نہایت ضروری ہے۔اور جو شریعت یہ کہتی ہے کہ اپنے حقوق کی نگہداشت نہ کرو وہ کسی بچے مذہب کی طرف قطعا منسوب نہیں کی جا سکتی۔مبر کے مفہوم کئی ہیں۔جن میں سے بعض ایسے ہیں جن کو ہمارے ملک کے لوگ بالکل جانتے تک نہیں۔کیونکہ ان کے لئے جو الفاظ ہیں وہ ان معنوں میں یہاں استعمال ہوتے ہیں جو اصل مفہوم کے خلاف ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ صبر عربی زبان میں کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اس کی بہت بڑی حکمت بیان فرمائی ہے۔چنانچہ صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ انسان متواتر اور استقلال کے ساتھ ان بدیوں کا مقابلہ کرے جو اس کو اپنی طرف کھینچ رہی ہوں۔اور ان بدیوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہے جو اس کو آئندہ پیش آنے والی ہیں۔دوسرے معنی یہ ہیں کہ استقلال کے ساتھ ان نیکیوں پر قائم رہے جو اس کو حاصل ہو چکی ہوں اور ان نیکیوں کے حصول کی کوشش کرے جو اس کو ابھی ملی نہیں۔غرض ایک مقصد پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے کا نام صبر ہے۔ہماری زبان کے مفہوم کے لحاظ سے استقلال ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا جن معنوں میں عربی زبان کے مفہوم کے لحاظ سے صبر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔کیونکہ عربی زبان میں صبر کا لفظ استقلال حریت اور اپنی ذات میں کامل ہونے اور عدم احتیاج کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔لیکن ہماری زبان کے مفہوم میں استقلال ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا اور جو معنی ہم استقلال کے لیتے ہیں اسے عربی زبان میں صبر کہتے ہیں۔پس عربی زبان میں استقلال کے ساتھ بدیوں کا مقابلہ کرنے استقلال کے ساتھ نیکیوں پر قائم رہنے اور استقلال کے ساتھ آئندہ نیکیوں کے حصول کی کوشش کرنے کا نام صبر ہے۔