خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 365

365 شرک ہو سکتا ہے۔پس ان کے ساتھ ان کو بھی گرا دینا چاہئے۔مگر میں پھر کہتا ہوں کہ لوگ وہاں شرک کے لئے نہیں جاتے۔وہ ان مقامات کے اعزاز و اکرام کے لئے ان پر نہیں جاتے۔ان کی نیت روحانیت پیدا کرنے کی ہوتی ہے۔اگر احترام اور اعزاز و اکرام کے لئے لوگ جاتے تو جوتیاں پہن کر صفا مروہ پر کیوں دوڑتے پھرتے۔پھر وہاں لوگ کھاتے پیتے بھی ہیں اور وہیں چھلکے بھی پھینک دیتے ہیں۔پس اگر محض اعزاز و اکرام مد نظر ہو تا۔تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے کہ اس مقام پر جوتے پہنے چلے جاتے اور وہیں چھلکے پھینکتے اور کوڑا کرکٹ بھی پھیلاتے۔پس وہ اس لحاظ سے وہاں جاتے ہیں کہ یہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا تھا۔گرانے اور منہدم کرنے کا عقیدہ رکھنے والوں کے پاس بڑی سے بڑی دلیل اس شجر کی ہے۔جس کے نیچے رسول کریم ﷺ نے بیعت رضوان نی۔مگر وہ واقعات اس وقت ہمارے سامنے نہیں جو حضرت عمرؓ کے وقت میں پیش آئے اور نہ ہی وہ واقعات اس وقت موجود ہیں۔میں اس وقت کے حالات کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔مگر میں یہ بات بغیر کسی قسم کے ڈر کے کہتا ہوں کہ میرے سامنے اگر یہ واقعہ ہوتا اور مجھ سے اس کے کاٹنے کے متعلق پوچھا جاتا۔تو میں یہی کہتا کہ اس درخت کو ہرگز نہیں کاٹنا چاہئے۔اگر کوئی اس کے ذریعہ شرک کرتا ہے تو اسے روکنا چاہئے لیکن اس درخت کو جس پر خدا کا جلال ہوا اور جس کے نیچے آنحضرت ﷺ کی صداقت کا ایک اور نشان نظر آیا۔مطلقاً نہیں کاٹنا چاہئے بلکہ اس کی حفاظت کرنی چاہئے کہ وہ دیر تک قائم رہ سکے۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ ان حالات کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اس درخت کو نہیں کاٹنا چاہئے تھا۔ہاں شرک کے پھیلنے کا اگر کوئی خطرہ اس کے وجود سے پیدا ہو گیا تھا تو اسے دور کیا جا سکتا تھا ممکن ہے کوئی ایسا ہی خطرہ پیدا ہو گیا ہو جس سے اس کا نہ رکھنا ہی حضرت عمرؓ نے مناسب جانا ہو۔ورنہ کسی معمولی سی بات کے لئے حضرت عمر جیسے انسان سے یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ اس درخت کو کاٹ دیتے۔یہ درخت جس کے نیچے صلح حدیبیہ کے سے اہم موقع پر بیعت لی گئی۔معمولی درخت نہیں بلکہ شعائر اللہ میں سے تھا اور شعائر اللہ سے جس حد تک ایمان میں تازگی اور دلوں میں روحانیت پیدا ہوتی ہے۔اس کا اعتراف اہلحدیث گروہ کو بھی ہو گا۔پس جو شخص اس کے پاس اس نیت سے جاتا کہ ایمان میں مضبوطی پیدا ہو اور خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی جگہ کو دیکھنے سے روحانیت پیدا کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک نیک کام کرتا۔پس میں یقین کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی اس "