خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 364

364 کے نشانات اور شعائر اللہ کئے جائیں تو پھر یہ بات کہ ہم شرک کو مٹاتے ہیں۔صرف دعوی ہی دعوئی رہ جاتی ہے۔پس میں کہتا ہوں کہ شرک کو مٹاؤ لیکن شرک کو مٹاتے ہوئے رسول کریم سیتی نہ گراؤ۔اور ان مقامات کو ملیا میٹ نہ کرو کہ جن کو دیکھ کر ایک شخص کے دل میں توحید کی لہر پیدا ہوتی ہے۔پس وہ قوم جو اہلحدیث کہلاتی ہے اور جس کا بڑا دعوئی شرک کی بیخ کنی ہے، وہ بالضرور شرک کے مٹانے کے لئے کوشش کرے اور ہم اس کوشش میں اس کے ساتھ ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ نہ کرے کہ شعائر اللہ پر ہی کلہاڑا رکھ دے۔۔۔یا ان مقامات کی بنیادوں میں ہی پانی پھیر دے جن سے روایات اسلامی وابستہ ہیں۔لیکن اگر اس کا یہی عقیدہ ہے کہ سب قبروں کو گرا دیا جائے اور سب مقبروں کو مسمار کر دیا جائے۔حتی کہ آنحضرت کے مزار پر جو گنبد ہے اسے بھی ہٹا دیا جائے۔تو پھر میں کہتا ہوں کہ انہیں صفا و مروہ کو بھی مٹا دینا چاہئے جن پر حضرت ہاجرہ بیقراری کے ساتھ دوڑیں اور ان کی تنتج میں اب بھی حج کے موقع پر لوگ ان کے درمیان دوڑتے ہیں۔پھر خانہ کعبہ کو بھی گرا دینا چاہئے کہ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا۔اور پرانی روایات کو برقرار رکھنے کے لئے بنایا اور ایسا ہی دوسرے ان سب مقامات کو بھی گرا دینا چاہئے جن پر خدا کا جلال ظاہر ہوا کیونکہ لوگ ان کو مقدس سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ال ان مقامات پر لوگ اس لئے جاتے ہیں کہ دلوں میں روحانیت پیدا کریں اور یہ خیال کرکے کہ یہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا۔خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ان کا قائم رہنا توحید الہی پر ایمان لانے کے لئے ضروری ہے نہ کہ مضر۔پس وہ قوم جو مقابر وغیرہ کو گرا دینا چاہتی ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ دیکھے لوگ کس نیت سے وہاں جاتے ہیں۔ان کی نیت میں روحانیت پیدا کرنا ہوتا ہے کیونکہ وہ جب دیکھتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جس پر خدا کا جلال ظاہر ہوا تھا اور یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کی خدا نے مدد کی تھی۔یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہ نے خدا کے لئے خطرات میں قیام کیا تھا۔تو ان کے ایمان میں ترقی ہوتی ہے۔ان کے اندر روحانیت بڑھتی ہے۔ان کے دلوں میں خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے۔اگر لوگوں کا ان مقامات پر جانا شرک ہے تو سب سے سے پہلے خانہ کعبہ کو اڑا دو کہ لوگ وہاں بھی جاتے ہیں۔پھر صفا اور مروہ کو مٹا دو کہ حضرت ہاجرہ کی اسی بیکلی اور اضطراب کی یاد میں لوگ اب بھی وہاں دوڑتے ہیں۔جو انہیں اپنے بچے کے لئے پانی تلاش کرتے وقت ہوئی تھی اور جس کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ہاجرہ جا آرام سے بیٹھ ہم نے تیرے بچے کے لئے پانی پیدا کر دیا۔کیونکہ جب دوسری جگہوں پر محض جانا شرک ہے تو ان جگہوں پر جانا بھی