خطبات محمود (جلد 9) — Page 366
366 درخت کے پاس اسے شعائر اللہ سمجھ کر جاتا ہو گا۔وہ ایمان سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ لوٹتا ہو گا نہ کہ شرک کرتا ہوگا۔صفا اور مردہ اور بعض دوسرے مقامات شعائر اللہ میں سے ہیں اور جو ان پر اعتراض کرتا ہے۔وہ ان پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم پر کرتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ صفا اور مروہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان پر میرا نشان ظاہر ہوا اور یہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔یہاں حضرت ہاجرہ اکیلی دوڑی تھیں۔جہاں میلوں تک پانی نہ تھا اور اس وقت جو بیقراری اور اضطراب انہیں تھا اس کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ ہاجرہ! صبر کر تو نے میرے لئے وطن کو چھوڑا۔میں تیرے لئے یہاں پانی پیدا کرتا ہوں۔پس خدا نے اس مقام پر کہ جہاں سینکڑوں میلوں تک پانی نہ تھا۔حضرت ہاجرہ اور ان کے بچہ کے لئے ان کے اضطراب اور بے چینی کو دیکھ کر پانی پیدا کیا۔اور پانی پیدا نہیں کیا بلکہ اپنا نشان دکھلایا کہ میں قادر مطلق ہوں اور یہ میری قدرت میں ہے کہ میں ان مضطرب اشخاص کے لئے لق و دق میدان میں بھی کہ جہاں لوگ پیاس سے تڑپ تڑپ کر مرجاتے ہیں۔اپنی قدرت سے پانی پیدا کر سکتا ہوں۔پس وہاں حضرت ہاجرہ اضطراب میں دوڑیں اور دوڑتے ہوئے اسی اضطراب کے ساتھ خدا تعالیٰ سے عرض بھی کرتی رہیں کہ تو ہی ہے جو کچھ کر سکتا ہے۔سو ان کی یہ حالت زار خدا کے رحم کو جوش میں لانے والی ہوئی۔جس کے ذریعہ اس کا جلال دنیا پر آشکارا ہوا۔پس وہاں کا تو پتھر پتھر اک نشان ہے اور پھر ان پہاڑیوں کے متعلق تو خود خدا نے بھی فرما دیا ہے کہ وہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔اب جس طرح صفا و مروہ پر خدا کا نشان ظاہر ہوا اور وہ شعائر اللہ بن گئے۔اسی طرح وہ درخت بھی شعائر اللہ بن گیا۔جس کے نیچے آنحضرت ا ان کے ہاتھ پر حدیبیہ کے موقع پر بیعت کی گئی۔پس ان مقامات پر جہاں جہاں خدا کا نشان ظاہر ہوا جانے سے ایک شخص کے دل میں روحانیت پیدا ہوتی ہے۔اس کے ایمان میں تازگی آتی ہے۔اس کے اندر خشیت اللہ پیدا ہو جاتی ہے۔وہ نصیحت کا اگر موقع ہو تو نصیحت پکڑتا ہے اور عبرت کا اگر موقع ہو تو ان سے عبرت حاصل کرتا ہے۔اگر کسی کو اس کے ساتھ اتفاق نہیں اور وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ان مقامات سے یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔تو کیا وہ اس بات سے بھی انکار کر سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔کہ قبروں پر جایا کرو تا عبرت حاصل ہو۔پھر قبروں پر دعائیں مانگنے کے لئے بھی فرمایا ہے اور حد یثوں سے ثابت ہے کہ آپ قبروں پر جا کر دعائیں کیا کرتے تھے۔رسول اللہ ان مشرک نہیں تھے۔