خطبات محمود (جلد 9) — Page 342
342 تو کیا حرج ہے اور یہ کوئی عیب نہیں کہ ہم باجماعت نمازیں نہیں پڑھتے مگر ایسا سمجھنے میں وہ غلطی پر غلطی کرتے ہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ کے وقت میں دو نمازیں بھی اگر با جماعت نہ پڑھی جائیں تو منافق ہو جائیں اور اب اگر ساری نمازیں باجماعت نہ پڑھی جائیں تو خیال کیا جائے کہ ہم منافق نہیں۔یہ کس قدر بے ہودگی ہے کہ نمازیں تو باجماعت نہ پڑھیں مگر یہ امید رکھیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے وہ سلوک کرے جو سب نمازوں کو باجماعت پڑھنے والوں کے ساتھ کرتا ہے۔یاد رکھو مسجدوں کو چھوڑ کر گھروں پر بلا عذر نمازیں پڑھنے والے با اخلاص نہیں ہو سکتے اور کے کے نہ ہی منافق نام دھرانے سے بچ سکتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ رسول کریم انا ہے وقت تو عشاء اور صبح کی نمازیں باجماعت نہ پڑھنے سے لوگ منافق بن جائیں مگر اس وقت ایسا کرنے پر منافق نہ ہوں۔اگر اس زمانہ کے لوگ ان دونوں نمازوں کو باجماعت ادا نہ کرنے کے سبب منافق تھے۔تو اس وقت کے لوگ بھی ایسا کرنے پر ضرور منافق ہیں۔اس وقت کی حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت سے ایک طبقہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں غیر حاضر ہوتا ہے اور یہ ایک قابل افسوس بات ہے کہ ہم احمدی کہلا کر بھی وہ باتیں کریں جو منافق بنا دیں۔یہاں قادیان میں ہی اگر کوئی شخص ظہر و عصر کی نمازوں میں آنے والوں کو دیکھے اور پھر صبح اور عشاء کی نمازوں میں پھر جائے۔تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ کثرت سے لوگ ان دو نمازوں میں نہیں آتے اور ایسے لوگ جو ان دو نمازوں میں نہیں آتے۔رسول کریم الله وقت تو منافق ہوں اور ہمارے وقت میں نہ ہوں۔یہ ناممکن بات ہے ان دو نمازوں میں نہ آنے والے لوگ اسی طرح منافق ہیں۔جس طرح آنحضرت ان کے وقت میں ان دنوں نمازوں میں نہ آنے والے منافق تھے۔پس تم جو احمدی ہوئے ہو۔تو دیکھو اور سوچو کہ کیا منافق بننے کے لئے احمدی ہوئے ہو؟ کیا یہ افسوس کا مقام نہ ہوگا کہ باوجود طرح طرح کی تکلیفوں کے جو احمدی بننے کے لئے تم نے برداشت کیں۔باوجود طرح طرح کی مشکلات کے جو اس راستے میں تمہیں جھیلنی پڑیں۔باوجود طرح طرح کے جھگڑوں اور طرح طرح کے فسادوں کے جو اس راہ کو اختیار کرنے کے سبب رشتہ داروں سے اور دوستوں اور دوسرے لوگوں سے تمہیں کرنے پڑے۔پھر بھی تم منافق کے منافق ہی رہو۔صرف اس لئے کہ تم نے نفس پر اتنی تکلیف لادنے سے پر ہیز کیا۔جو منافق بننے سے بچا سکتی ہے۔اور ذرا سی بستی سے نفاق کی طرف الٹ پڑے۔میں افسوس کرتا ہوں جنہوں نے گھروں کو وطنوں کو خویش و اقارب کو رفیقوں کو اور اور چیزوں کو چھوڑا۔اور یہ سمجھ کر چھوڑا کہ