خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 343

343 قادیان میں چل کر کچھ حاصل کریں گے مگر وہ یہاں آکر حاصل کرتے کرتے الٹے گنوانے لگ گئے۔باہر کے لوگ باجماعت نماز کے متعلق عذر کر سکتے ہیں اور ان کا عذر ایک حد تک درست بھی ہے کیونکہ مختلف جگہوں پر جماعتیں ہیں اور ان کے افراد بکھرے ہوئے ہیں اور مسجد میں دور دور ہیں۔ان کے لئے یہ ایک تکلیف مالا يطاق پر ہے کہ وہ پانچوں نمازوں کے لئے اپنی مسجد میں آئیں۔وہ ہر جگہ قادیان کی طرح اکٹھے ہی ایک جگہ پر نہیں ہیں بلکہ اپنے اپنے شہروں میں مختلف مقامات پر رہتے ہیں۔اس حالت میں وہ کس طرح پانچوں نمازوں میں اکٹھے ہو سکتے ہیں۔وہ مجبور ہیں۔ان کے لئے پانچوں نمازوں میں آنا ایک تکلیف مالا يطاق ہے۔اس لئے ایسے لوگوں کو شریعت نہیں پکڑے گی۔مثلاً لاہور میں مسجد ایک جگہ واقع ہے۔شہر بڑا وسیع ہے۔اس کے مختلف حصوں میں احمدی آباد ہیں۔اب اگر ان کو مسجد میں پانچوں نمازوں میں آنا پڑے۔تو ان کے لئے یہ ایک ایسی تکلیف ہوگی جو ان کی برداشت سے باہر ہے۔اوسطاً دو میل کا فاصلہ سمجھ لو۔اب اگر وہ دو دو میل سے آئیں تو پانچوں نمازوں کے لئے انہیں میں میل روزانہ مسافت طے کرنی پڑے۔جو موجب تکلیف ہے۔اتنا سفر تو ہر کارے بھی نہیں کرتے۔پھر بلحاظ وقت کے ان پانچوں نمازوں پر ان کے بارہ چودہ گھنٹے خرچ ہو جائیں۔اس طرح پھر وہ نمازوں ہی کے لئے رہیں اور کوئی کام نہ کریں لیکن یہ درست نہیں کہ ایک شخص دن رات نمازوں میں ہی گزار دے اور دوسرے فرائض ادا نہ کرے۔پس ایسے حالات میں شریعت معاف کر دیتی ہے مگر قادیان کی یہ حالت نہیں۔یہاں لوگوں کے مکانات کچھ اتنے فاصلہ پر واقع نہیں کہ وہ اگر پانچوں نمازوں کے لئے مسجد میں آئیں تو کوئی دوسرا کام نہیں کر سکتے۔پھر یہاں تو ہر محلہ میں مسجد ہے۔اپنے اپنے محلہ کی مسجد میں نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔جب کوئی شخص قادیان سے باہر ہوتا ہے۔جہاں مسجد اس کے گھر سے فاصلہ پر واقع ہوتی ہے۔وہاں اگر کوئی شخص نماز با جماعت نہیں پڑھتا تو وہ معذور ہے لیکن قادیان میں آکر یہ عذر ٹوٹ جاتے ہیں۔یہاں کوئی عذر نہیں ہو سکتا کہ یہاں نمازیں باجماعت پڑھنا تکلیف مالا طاق ہے۔کیونکہ اول تو قادیان کی آبادی سے مسجدیں دور نہیں۔پھر اس کی حالت تو مدینہ کی حالت سے ملتی ہے۔یہاں ہر محلہ میں مسجد ہے۔اگر کوئی مسجد مبارک میں نہیں آسکتا تو اپنے محلہ کی مسجد میں نماز میں ادا کر سکتا ہے۔مگر باوجود اس کے اگر کوئی شخص پھر بھی گھر میں نمازیں پڑھتا ہے اور مسجد میں نہیں آتا تو وہ اپنے اندر نفاق کا مادہ رکھتا ہے۔جو اسے روحانی ترقی نہیں کرنے دیتا۔