خطبات محمود (جلد 9) — Page 341
341 سے کم علم ہوتے ہیں جو اپنی کمنی علم کی وجہ سے ایک بات کے متعلق پورا پورا علم نہیں رکھتے پھر بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو جاہل تو نہیں ہوتے اور کم علم بھی نہیں ہوتے مگر مجبور ہوتے ہیں۔اس لئے ایسے لوگ کسی حد تک رعایت کے مستحق ہوتے ہیں لیکن اگر ایک چنگا بھلا آدمی جو جاہل بھی نہیں جو کمئی علم کے سبب نا واقف بھی نہیں۔جس کے کان میں وقتا فوقتا یہ آوازیں بھی پڑتی رہی ہوں کہ نماز باجماعت پڑھنے کی رسول کریم اللہ نے از حد تاکید فرمائی ہے۔وہ اگر اس میں غفلت کرے اور سستی سے کام لے تو وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔رعایت کیا اس کے زے تو گناہ لگ رہا ہے کہ واقفیت رکھتے ہوئے بھی وہ ایک ایسی بات کے کرنے میں غفلت کرتا ہے جس کے متعلق بہت ہی تاکید کی گئی ہے۔پس میرے نزدیک جو نماز نہیں پڑھتا۔وہ مسلمان نہیں۔مسلمان منہ سے نہیں بن جاتا۔کوئی شخص اتنا کہہ دینے سے کہ میں مسلمان ہوں مسلمان نہیں ہو سکتا۔مسلمان بننے کے لئے عملی صورت ہونی چاہئے اور وہ عملی صورت سوائے نماز کے اور کوئی نہیں۔پس جب تک ایک شخص جو منہ سے کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں نماز باجماعت نہیں پڑھتا۔وہ مسلمان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔نماز معمولی سی چیز نہیں۔بلکہ وہ چیز ہے جو ایک شخص کو بہت سی بدیوں اور برائیوں سے بچاتی ہے۔یہ ایک مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی چیز ہے۔ایمان اور کفر کے درمیان کا پردہ نماز ہی ہے لیکن نماز با جماعت۔نماز با جماعت معمولی مسئلہ نہیں بلکہ بڑا اہم مسئلہ ہے۔ایمان اور اسلام کا فرق دکھانے والا مسئلہ ہے۔اس سے ایک شخص کے ایمان اور اسلام کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اس کے اخلاص اور محبت کا پتہ لگتا ہے کہ وہ جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے۔کیا وہ اس دعوے کے ساتھ اخلاص اور محبت بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔یا صرف ایمان کا دعوی ہی دعویٰ کرتا ہے۔پس نماز با جماعت کے مسئلے سے ایک شخص کے متعلق ان سب باتوں کا امتحان ہو سکتا ہے۔اس لئے یہ کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں کہ اس کی طرف توجہ نہ کی جائے۔بلکہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور اس کی طرف ہر ایک شخص کو پوری پوری توجہ کرنی چاہئے۔جب رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ صبح اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ نہ پڑھنے والا منافق ہے۔تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کے متعلق کیا فرماتے۔جو پانچ پانچ یا چار چار یا تین تین نمازوں میں نہیں آتے اور انہیں جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرتے۔ایسے لوگ جو باجماعت نمازیں نہیں پڑھتے۔وہ سمجھتے ہیں جب ہم گھروں میں نماز پڑھ لیتے ہیں