خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 120

120 پوری توجہ نہیں دی جا سکتی۔اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بہت جلد اس کام سے فارغ ہو جائیں۔تا میں جلد سے جلد تبلیغ و تربیت کے اہم کاموں کی طرف توجہ کر سکوں۔میں امید کرتا ہوں کہ میری یہ تحریک انشاء اللہ بہت اثر کرے گی اور دشمن دیکھے گا کہ ہم تھکے نہیں بلکہ اور زیادہ قربانیوں کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔اور ہماری قربانیاں بطور ورزش کے ہیں جو ہمیں تھکاتی نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوط کر دیتی ہیں۔جس طرح پہلوان جتنی زیادہ ورزش کرتا ہے۔وہ کمزور نہیں ہوتا بلکہ ورزش اسے اور زیادہ مضبوط بنا دیتی ہے۔اسی طرح ہماری قربانیاں بھی ہمیں اور زیادہ طاقت ور بنا رہی ہیں۔ہماری جماعت چند لاکھ کے قریب ہے۔اور ہمارے دشمن ہمیں چند ہزار بتاتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں صرف ہندوستان میں مسلمان قریباً سات کروڑ ہیں۔میں کہتا ہوں کہ وہ سات کروڑ خدمت دین کے لئے ایسے آدمی مہیا کریں جو ساری کی ساری جائدادیں اور اموال چندہ میں دے دیں۔اور ہم بھی مہیا کرتے ہیں۔پھر دیکھیں گے کہ ہم چند لاکھ لوگوں میں سے ایسے آدمی زیادہ نکلتے ہیں جو تمام کی تمام جائداد بغیر کسی ایک چیز کے بھی گھر میں چھوڑے چندہ میں دے دیتے ہیں یا ان سات کروڑ میں سے نکلتے ہیں۔اگر ایسا کرنے پر ہماری جماعت میں سے کئی ہزار ایسے آدمی نکل آئیں جو بغیر کسی پس و پیش کے اپنی تمام جائدادیں چندہ میں دے دیں اور ان میں سے کوئی نہ نکلے۔تو پھر سمجھ لو کہ مخالفین کے اعتراض بے ہودہ ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے مامورو مرسل نے ہم لوگوں کے اندر ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا ہے جو سوائے نبی کریم ا اور آپ کے صحابہ کے پہلے کہیں نہیں پایا جاتا۔لیکن پھر بھی میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ میں ابھی اس تغیر پر خوش نہیں ہوں۔کیونکہ مردوں میں طاقتور ہونا کوئی خوشی کی بات نہیں۔آج کل کے مسلمان مردے ہیں۔طاقتوروں میں طاقتور ہونا ہی خوشی کا موجب ہو سکتا ہے۔پس آپ لوگ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ طاقتوروں کے اندر بھی آپ طاقتور کہلائیں۔اب میں خطبہ کے ختم ہونے سے پہلے پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آپ اپنی ان باتوں میں بھی جن میں ابھی اصلاح نہیں ہوئی۔اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔اور اپنے نفوس کی اصلاح کی طرف بھی توجہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفوس کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل ۹ مئی ۱۹۲۵ء)