خطبات محمود (جلد 9) — Page 119
119 اندر تھوڑا تھوڑا کر کے سارا چندہ ادا کر دیں گے۔لیکن اب دشمنوں کے اعتراضات سن کر خود تکلیف اٹھا کر بھی یکمشت بھیجتے ہیں۔اور بہت سے دوستوں نے لکھا کہ ہم نے پہلے ایک ماہ کی آمدنی لکھوائی تھی۔لیکن اب ان اعتراضات کو پڑھ کر ایک ماہ کی آمدنی اور دیتے ہیں۔یہ کیسی خوش کن نظیریں ہیں۔ایک دوست جو بہت غریب ہیں اور صرف ساڑھے سات روپے ماہوار آمدنی رکھتے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ پہلے خیال تھا کہ مقررہ میعاد کے اندر اپنی ماہوار آمدنی چندہ میں ادا کر دوں گا۔اب دشمنوں کے اعتراضات سن کر میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ خواہ کسی طرح گزارہ کرنا پڑے۔اس چندہ کی رقم یکمشت ادا کر دوں گا۔ایسی غرباء کی بہت سی مثالیں ہیں۔اور امراء کے مقابلہ میں زیادہ ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امراء میں ایسی مثالیں نہیں پائی جاتیں۔ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ ایک دوست نے اپنی ایک ماہ کی آمدنی چندہ میں دے دی تھی لیکن انہوں نے لکھا کہ چونکہ دشمن اعتراض کر رہا ہے کہ ہم چندہ دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔لہذا میں ایک سو روپیہ علاوہ ایک ماہ کی آمدنی کے اور دیتا ہوں تاکہ ہمارے دشمنوں کو یہ پتہ لگ جائے کہ ہم چندہ دیتے تھکے نہیں۔بلکہ اور زیادہ تیز ہو گئے ہیں۔تو دشمنوں کے ان اعتراضات سے بھی ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے۔بہت سے دوست جنہوں نے پہلے اپنی ایک ماہ کی آمد لکھائی تھی انہوں نے اب ایک ماہ کی آمد سے بھی زیادہ دینے کے لئے لکھا ہے۔اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اور کچھ نہیں تو ان اعتراضوں کی وجہ سے دو تین ہزار روپیہ زیادہ وصول ہو جائے گا۔اور چونکہ جماعت نے اس سال کے بجٹ میں زیادتی کی ہے یہ رقم اس کے پورا کرنے میں کام آئے گی۔اور امید ہے اتنا روپیہ جمع ہو جائے گا۔کہ علاوہ تحریک کی اصل رقم کے وہ بجٹ کی رقم کی زیادتی کو بھی پورا کر دے گا اور دشمن دیکھ لے گا کہ ہم چندہ دیتے دیتے تھکے نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ تازہ دم ہو گئے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بہت جلد اس رقم کو پورا کر دیں۔میں نے جب یہ تحریک کی تھی اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ ایک چھوٹی سے قربانی ہے۔اور آئندہ اس سے بہت بڑی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اب پھر میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی ان کے لئے بہت بڑی بڑی قربانیاں کرنی باقی ہیں۔اس لئے وہ تیار رہیں۔اس تحریک کی میعاد ختم ہونے میں ایک مہینہ رہ گیا ہے۔اس لئے دوست جلد سے جلد اس کام سے فارغ ہوں تا دوسرے کاموں کی طرف پورے طور پر توجہ کی جا سکے۔ہمارا اصل کام تبلیغ اور تربیت ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس پر زور دوں۔چونکہ ابھی دوست اس تحریک کی طرف متوجہ اور مشغول ہیں اور اس وجہ سے دوسری طرف 8