خطبات محمود (جلد 9) — Page 76
76 ہمارے ساتھ دوسری قوموں کی آواز جو ہمارے ارد گرد رہتی ہیں۔یا دنیا کے مختلف مہذب ملکوں میں رہنے والی ہیں۔ان کی آواز اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔کیونکہ ہماری جماعت کے متعلق تو حکومت کابل یہ خیال کر کے کہ یہ کمزور لوگ ہیں۔اس مصیبت پر خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ایک خیالی خوشی حاصل کر سکتی تھی۔اور واقعہ میں اگر کسی مصیبت زدہ کی اپنی قوم یا اپنے رشتہ دار اس کی مصیبت پر کسی دکھ و درد رنج اور افسوس کا اظہار نہیں کرتے۔تو غیروں سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ افسوس کا اظہار کریں گے۔اسی طرح اگر ان واقعات پر ہم خاموش بیٹھے رہیں تو دوسری اقوام ہے کو کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ افسوس کا اظہار کریں۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گو محض ہماری آواز کابل پر کچھ اثر نہیں کر سکتی۔لیکن ہمارے ساتھ غیر احمدیوں ، سکھوں، عیسائیوں اور یورپ و امریکہ کی قوموں کا بھی اس وحشیانہ فعل پر اظہار نفرت و ملامت کرنا حکومت کابل کو مطمئن نہیں رہنے دے سکے گا۔اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ خیال کریں کہ صرف احمدیوں کی محدود تعداد ہی اس کے فعل سے نفرت نہیں رکھتی بلکہ دنیا کی تمام مہذب اقوام بلکہ جو اس کے دوست اور ہم مذہب ہیں وہ بھی ان کے ان افعال کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایسی صورت میں اسے اپنی عزت کا ضرور خیال آئے گا۔اور حکومت کابل کے ارکان سمجھیں گے کہ اس طرح تو ہم تمام دنیا اور دوست دشمن میں بدنام ہو رہے ہیں۔اور یہ قائدہ کی بات ہے کہ عزت کا خیال بھی بہت سے گناہوں سے انسان کو بچا لیتا ہے۔ڈاکوؤں کی فطرت کو کتنی ہی بگڑ چکی ہوتی ہے۔لیکن شائد ہی فی صد کوئی ایک ایسا نکلے۔جو یہ نہ چاہتا ہو۔کہ اس کا یہ جرم مخفی نہ رہے۔سارے کے سارے یہی چاہیں گے کہ ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے اور وہ ظاہر نہ ہو۔بکثرت ایسی مثالیں موجود ہیں۔کہ ڈاکو یہ معلوم کر کے کہ ان کی کارروائی مخفی نہ رہ سکے گی وہ اس جرم کے ارتکاب سے باز رہے۔اور سو چوریوں میں سے نوے فی صد ایسی ہوں گی جو ان کے ظاہر ہو جانے کے اندیشہ سے نہیں کی گئیں۔پس جب اظہار جرم ایک ایسی زبردست طاقت ہے کہ اس سے نوے فی صد فساد کے مواقع کو روکا جا سکتا ہے اور یہ نوے فی صد بھی میں نے کم کہا ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ اس کا اثر ہے۔تو پھر ایسی زبردست طاقت سے ہم کیوں فائدہ نہ اٹھائیں۔جس سے فائدہ اٹھانے کا طریق یہی ہے کہ ہم بڑے زور کے ساتھ صدائے احتجاج بلند کریں۔پس اس سے ہمیں تین فائدے پہنچ سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ جماعت کے ان لوگوں کے دلوں میں زندگی کی تازہ روح پیدا ہو سکتی ہے جو ست یا لا پرواہ ہوں۔دوسرے یہ کہ اس سے ہمارے ان مظلوم بھائیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔جن پر حکومت کابل