خطبات محمود (جلد 9) — Page 77
77 جور و جفا کر رہی ہے اور وہ بڑی بہادری سے اپنے ایمان اور اخلاص کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔وہ یہ معلوم کر کے کہ ہم ان کی ہمدردی میں اپنی طاقت کے مطابق کوشش کر رہے ہیں اور ان کے دکھ کا ہم کو پورا پورا احساس ہے۔اس طرح ان کے حوصلے ان کے جوش اور اخلاص میں زیادہ ترقی ہو سکتی ہے۔اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دوسری قوموں پر بھی۔خواہ وہ ہمارے ارد گرد رہتی ہوں یا دیگر متفرق ممالک میں۔ان پر بلکہ اس قوم کے افراد پر بھی کہ جو ہمارے سخت دشمن اور مخالف ہیں۔اس کا اثر پڑتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت کابل کو اپنی موجودہ روش بدلنی پڑے گی۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ہماری اپنی کوئی طاقت اور حکومت نہیں جس سے ہم براہ راست اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کر سکیں۔کیونکہ کسی ظالم حکومت کو اس کے ظلم سے کوئی دوسری حکومت ہی براہ راست روک سکتی ہے۔اس لئے یہ تو ہماری طاقت سے باہر ہے۔اب دوسری صورت یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کی تائید اور مدد حاصل کریں۔جنہیں طاقت حاصل ہے۔کیونکہ کمزور کا جب اپنا کوئی بس نہیں چلتا۔تو وہ کسی دوسرے زبر دست کی مدد اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس دوسری صورت یہ ہے کہ ہم ان حکومتوں اور طاقتوں سے مدد لیں۔جن کو افغان گورنمنٹ ناراض کرنا نہیں چاہتی۔یا افغان گورنمنٹ میں انہیں ناراض کرنے کی طاقت نہیں۔مگر اس مدد کا یہ مطلب نہیں کہ کابل کے خلاف چڑھائی کرائی جائے بلکہ یہ ہے کہ ان سے ہم یہ کہلوائیں کہ حکومت کابل کا یہ فعل اچھا نہیں اور یہ کام ان کی نگاہ میں بھی اسی طرح نفرت دلانے والا ہے۔جس طرح کہ ہماری نگاہ میں ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے میں نے دنیا کی مختلف گور نمنٹوں کو کابل کی اس وحشیانہ اور غیر شریفانہ حرکت کی طرف توجہ دلائی اور وہ توجہ کر رہی ہیں۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب کے واقعہ کے متعلق تو وہ یہ بھی خیال کر سکتی تھیں کہ ممکن ہے یہ واقعہ کسی سیاسی مجبوری کی وجہ سے گورنمنٹ کابل نے کیا ہو۔اور شائد اس ایک واقعہ کے بعد پھر کوئی ایسا واقعہ نہ ہو۔لیکن اس کے بعد معا دوسرا واقعہ بھی ہو گیا۔تو ان کو اس طرف بہت زیادہ توجہ پیدا ہو گئی ہے۔بعض گور نمنٹوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملہ میں پوری توجہ سے کام لیں گی۔اور سارے یورپ کو اس طرف توجہ دلائیں گی۔چنانچہ بعض نے تو یقینی طور پر اس کے متعلق کارروائی شروع بھی کر دی ہے۔اور بعض کے متعلق یقینی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا۔لیکن معتبر ذرائع سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی اس کے متعلق اپنی کارروائی شروع کر دی ہے۔اور ان کا اس طرف متوجہ ہونا ایسا نہیں کہ