خطبات محمود (جلد 9) — Page 75
75 مگر ان کے دل میں ہماری ہمدردی ہے اور ہمارے دکھ کو وہ محسوس کرتے ہیں۔اس سے بھی ایک مصیبت زدہ انسان کا حوصلہ بہت کچھ بڑھ جاتا ہے۔ہزارہا واقعات ایسے ہیں کہ جن کو دین کے لئے یا عزت کے لئے یا ملک اور قوم کے لئے قربانیوں کے مواقع پیش آئے ہیں۔ان کی ہمتیں محض اس وجہ سے دو چند ہو گئیں کہ ان کی مصیبت میں ان کے رشتہ داروں یا ان کی قوم یا ملک کو ان سے ہمدردی تھی۔آنحضرت الان کے بعد خلفاء کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک عورت اس نے اپنے بیٹے کو ایک جنگ کے موقع پر رخصت کرتے وقت کہا۔دیکھو تم چھوٹے تھے جب تمہارا باپ فوت ہو گیا۔میں نے اپنی عصمت کی حفاظت کر کے تمہاری پرورش کی اور تمہارے خاندان کی عزت کو قائم رکھا جو کام تمہارے باپ کا تھا۔اس کے بعد وہ میں نے کیا۔تم کو پالا پوسا اور تمہاری پرورش کی اگر تم بغیر فتح حاصل کئے میرے پاس واپس آگئے تو یاد رکھو جو حقوق میرے تم پر ہیں وہ ہرگز معاف نہ کروں گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بہادر ماں باپ کے بیٹے بہادر ہوتے ہیں اور اپنے ماں باپ کی جرات اور بہادری ان کو ضرور ورثے میں ملتی ہے اور نہیں تو کم از کم بہادر ماں باپ کی تربیت کے ذریعے ان میں بہادری پیدا ہو جاتی ہے۔اور جس بچہ نے ایسی بہادر ماں کی آغوش میں پرورش پائی ہو گی وہ ضرور بہادر ہو گا۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ اس بہادر ماں کے ان کلمات نے اس کی بہادری کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہو گا۔پس اس طرح گو کابل کے احمدی پہلے ہی بہادر ہیں لیکن آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں ہماری صدا کو سن کر ان کے دل کتنے بہادر ہو گئے ہوں گے۔بے شک وہ پہلے ہی نہایت دلیر ہیں اور اپنی قربانیوں کے ساتھ اپنے ایمان اور اخلاص کا وہ ثبوت پیش کر رہے ہیں جو بے نظیر ہے۔اور جو امتحان بھی ان پر آیا اس میں وہ پورے اترے ہیں۔مگر یہ ناممکن ہے کہ ہماری ہمدردی اور ہماری بے قراری اور ہمارا جوش اور ہمارا صدائے احتجاج بلند کرنا ان کے جوش اور ان کے اخلاص ، ان کے ایثار کو نہ دے اور زیادہ سے زیادہ ان کے حوصلوں کو نہ بڑہائے۔پس ہماری اس اظہار ہمدردی اور صدائے احتجاج سے ہمارے ان مظلوم بھائیوں کو بھی یہ ایک بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے اور آئندہ جو فائدہ اس کا ظاہر ہو گا وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔پس یہ دوسرا فائدہ ہے جو ہمیں صدائے احتجاج کے بلند کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔تیرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ گو ہماری آواز براہ راست کابل پر کوئی اثر نہ کرے۔لیکن ترقی