خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 40

40 نہایت غلط راہ ہے۔بے شک اس بات کو جو تم کو شریعت کے فتوئی اور حکم کے خلاف معلوم ہو خلیفہ تک بھی پہنچاؤ۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ تم نظام کی کچھ پرواہ ہی نہ کرو۔اور کوئی کام بھی بغیر خلیفہ کے دخل دینے کے تم نہ کرو۔یہ روح بہت خطرناک ہے۔بہت جلد اس کو نکالنا چاہیے اور اس بہت کو جہاں تک ممکن ہو توڑنا ضروری ہے۔اگر یہی روح ہر ایک شخص کے اندر پیدا ہو گئی۔تو کل کو بیویاں خاوندوں سے کہنے لگ جائیں گی کہ ہم تمہاری بات نہیں مانتیں خلیفہ صاحب کہیں گے تو مانیں گی۔اسی طرح لڑکوں کو والدین کہیں گے پڑھنے جاؤ۔تو وہ یہ کہہ دیں گے کہ خلیفہ صاحب کہیں گے تو ہم مدرسے جائیں گے۔ہر شخص اپنی جگہ یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا حصہ حکومت ایک ثابت شدہ امر ہے۔مدرس یہ سمجھتے ہیں کہ طالب علموں کا فرض ہے کہ وہ ان کی بات مانیں۔لیکن ہیڈ ماسٹر کوئی بات کہے یا ناظر کوئی حکم دے تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کہیں گے تو ہم مان لیں گے۔حالانکہ یہ دین کا کام ہے ان کا ذاتی کام نہیں۔اگر وہ کہتے ہیں کہ فلاں جھگڑے کا تصفیہ کرنا ہے یا فلاں جگہ جھگڑا ہے وہاں جانا ہے یا فلاں بات ہے اس کے متعلق تحقیقات کرنی ہے یا فلاں جگہ تبلیغ کرنی ہے اور ان لوگوں کو سمجھانا ہے تو یہ ان کے ذاتی کام نہیں۔کیا اگر خلیفہ نہ ہو تو وہ یہ پسند کریں گے۔کہ تمام نظام مٹ جائے۔کیا وہ خود کام نہ کریں گے اور تمام امور کی درستی کے لئے کوشش نہ کریں گے اور اس کو خراب ہونے دیں گے۔خلیفہ کے لئے اتنا وقت اور فرصت کہاں کہ وہ ہر بات میں دخل دے سکے۔اس لئے جب بھی آپ کو پکارا جائے آپ کا فرض ہے کہ آپ افسروں کی آواز پر لبیک کہیں۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے تم کو بلاتے ہیں۔ہاں اگر کوئی افسر تم سے لکڑیاں اٹھوائے تو تم انکار کر دو۔مگر اسلام تو یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی دینوی امور میں بھی تمہاری امداد کا محتاج ہے تو تم اس کی مدد کرو بغیر اس کے کہ خلیفہ یا بادشاہ تم کو کہے۔اس وقت خصوصیت کے ساتھ دو امور کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ایک اشاعت سلسلہ کی طرف اور دوسرے اخلاق کی درستی کی طرف۔ان دو باتوں کے بغیر ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔بے شک چندہ دینا اچھا کام ہے۔مگر چندہ دے دینے سے اخلاق درست نہیں ہو جاتے۔ہاں جس کے اخلاق درست ہو جائیں وہ چندہ بھی ضرور دے گا۔جو حضرت ابو بکر جیسے اخلاق پیدا کر لے گا وہ ضرور ان کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال بھی دے دے گا۔لیکن یہ نہیں کہ جو مال دے اس کے اندر حضرت ابو بکر جیسے اخلاق بھی پیدا ہو جائیں۔یہ تو ممکن ہے کہ کوئی اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دیدے مگر وہ ابو بکر نہ بن سکے۔مگر یہ ممکن نہیں کہ کوئی ابو بکر بنے اور پھر اپنا سارا مال خدا کی راہ میں نہ دے۔میرے نزدیک موجودہ ترقی کی رفتار بہت کمزور ہے۔جب تک ایک لاکھ