خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 39

39 کہ وہ لوگوں سے منوائیں۔۔ان پر کام کی اہمیت ظاہر کریں اور بتلائیں کہ اگر تم اس میں شریک نہیں ہو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔کیونکہ یہ روح نہایت خطرناک ہے۔آج انہوں نے ناظروں کی بات کی پرواہ نہیں کی۔کل کو وہ امیروں اور سیکرٹریوں کی بات کو بھی نہیں مانیں گے کہ خلیفہ خود کے تو ہم مانیں گے۔اس لئے افسروں کو چاہیے کہ وہ بار بار اس امر کی تبلیغ کریں۔کیا غیر احمدیوں میں تبلیغ کرنے سے وہ اس لئے رک جاتے ہیں کہ غیر احمدی سنتے نہیں اور مانتے نہیں۔بلکہ ان کے محلوں اور ان کے گھروں میں جا جا کر تبلیغ کرتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی افسروں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کے گھروں اور محلوں میں جا جا کر ان کو کام کی اہمیت بتلائیں۔تاکہ وہ نظام کے ماتحت کام کرنے کے عادی ہو جائیں۔اگر افسر ایسا نہیں کرتے اور اس طرح لوگوں کو توجہ نہیں دلاتے تو وہ اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے وہ صحیح طور پر اپنی ذمہ داری سے اس طرح سبکدوش نہیں ہو سکتے کہ لوگ ان کی نہیں مانتے خلیفہ کی بات مانتے ہیں۔اس لئے میں ان کو فلاں بات کہدوں۔اس طرح تو حضرت مسیح موعود پھر یہ کہہ دیتے کہ لوگ میری بات نہیں مانتے۔آنحضرت ا خود تشریف لائیں تو لوگ مانیں گے اور آنحضرت ا فرما دیتے کہ میری بات تو لوگ نہیں سنتے۔وہ خدا تعالیٰ سے عرض کرتے کہ آپ خود اگر ان کو سمجھائیں یا اپنا کوئی جلال ان پر ظاہر کریں۔جس کو کسی کام پر مامور کیا جاتا ہے اور جس کو افسر مقرر کیا جاتا ہے۔اس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اس کام کو ہر طرح کوشش کر کے پورا کرے گا۔گورنمنٹ جب کسی کو فوج کا افسر مقرر کرتی ہے تو اس سے یہ امید کرتی ہے کہ وہ اپنا آپ منوائے گا اور فوج سے گورنمنٹ کے منشاء کے مطابق کام لے گا۔اگر کوئی فوج یہ کہہ دے کہ راستہ صاف اور ہموار نہیں یا ہمیں تو باڈی گارڈ کی ضرورت ہے۔اس فوج نے گورنمنٹ کا کیا کام کرنا ہے۔جب گورنمنٹ اس کو افسر بناتی ہے تو اس سے امید کرتی ہے کہ یہ لوگوں سے بات منوائے گا ہر معاملہ میں خلیفہ کا دخل دینا اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔لوگوں میں پھر اس بات کی عادت پڑ جائے گی اور وہ ہر بات پر یہ کہہ دیں گے کہ آپ کی ہم نہیں مانتے۔خلیفہ صاحب کہیں تو مان لیں گے۔اس طرح تو دنیا کا کوئی کام نہیں چل سکتا۔میرے نزدیک افسر جو باتیں پیش کرتے ہیں اور جماعت کے لوگ ان کی مدد کے لئے ان کی آواز پر لبیک نہیں کہتے تو ان کی مثال ایسی ہی ہے۔جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا۔لن نومن حتى نرى الله جهرة" کہ تمہاری بات ہم نہیں مانتے۔ہاں اللہ آئے اور کہہ دے تو مان لیں گے۔دوسروں کو تو وہ وعظ اور نصیحت کریں گے اور ان کے سامنے قرآن کے بیان کردہ واقعات پیش کریں گے۔مگر جب ان کو ایک انتظام کے ماتحت کوئی افسر کوئی بات کہتا ہے تو کہہ دیتے ہیں خلیفہ صاحب کہیں تو پھر ہم مان لیں گے۔