خطبات محمود (جلد 9) — Page 38
38 تمہارا کام ہے۔تم ہی کرتے پھرو۔میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ جب لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور اس میں گزشتہ لوگوں کے حالات اور واقعات کو پڑھتے ہیں۔اور وہ واقعات سب ان پر چسپاں ہوتے ہیں۔لیکن وہ اپنی جگہ بیٹھے ہوئے گزشتہ قوموں کو کوستے رہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا۔حالانکہ جو کچھ انہوں نے کیا یہ خود بھی وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔گو یہ منہ سے تو موسیٰ کے ساتھیوں والا کلمہ نہیں کہتے مگر عملاً یہ بھی ان کی طرح اذهب انت وربك فقاتلا انا ههنا قاعدون (المائده ۲۵) کہتے ہیں۔مجھے تعجب آتا ہے اور میں حیران ہوتا ہوں کہ بہت ہیں جو قرآن پڑھتے وقت گزشتہ قوموں کی حرکات پر افسوس کرتے ہیں۔اور ان کو بے وقوف بناتے اور ان کے برے برے نام دھرتے ہیں اور بہت ہیں کہ ایسی آیات کو پڑھتے وقت ان کے بدن پر تشعریرہ ہو جاتا ہے۔حالانکہ ان میں نوے فیصد ایسے ہوتے ہیں جن کی اپنی حالت ان سے کم نہیں ہوتی۔جب وہ خود اللہ تعالٰی کے دین اور اس کی اشاعت میں عملی حصہ نہیں لیتے تو ان کا کیا حق ہے کہ وہ موسیٰ کے ساتھیوں پر تعجب اور حیرانی کا اظہار کرتے ہیں گو تم منہ سے اقرار یہی کرو۔مگر عملا تم نے وہی کچھ کہا جو کہ موسیٰ سکے ساتھیوں نے کہا۔میرے نزدیک جہاں لوگوں کا قصور ہے۔وہاں افسروں کا بھی ہے۔آج ناظر دعوۃ و تبلیغ نے مجھے کہا کہ کیا کریں لوگوں کو ہم کہتے ہیں لیکن وہ ہماری کوئی نہیں سنتے۔آپ اگر کہیں تو سنیں گے۔ورنہ ہماری بات کی تو کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔میں نے ان کو بھی اور دیگر افسروں اور نائبوں کو بھی بار بار یہ بات کسی اور اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر ایک بات منوانے سے ہی لوگ مانتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے لوگ ان کی بات کو نہ سنتے تھے اور نہ مانتے تھے مگر کیا انہوں نے یہ کہا کہ لوگ میری بات نہیں مانتے میرے آقا آنحضرت ﷺ ہی خود آدیں تو تب یہ مانیں گے۔بلکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ ہمارا کام ہے منوانا۔آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول خلیفہ ہوئے۔جو نہی کہ لوگوں نے ہوش سنبھالا جھٹ کھڑے ہو گئے کہ ہم کیوں ایک شخص کی اطاعت کریں۔اس وقت مولوی صاحب نے یہ نہیں کیا کہ جو کام خلافت کی وجہ سے ان پر عائد ہوا تھا اس کو ترک کر دیا ہو اور حضرت مسیح موعود کی روح کو مخاطب کر کے یہ کہنے لگ گئے ہوں کہ میں کیا کروں لوگ انکار کرتے ہیں۔بلکہ وہ اس کام میں لگ گئے۔یہاں تک کہ اکثر حصہ اٹھانویں ننانوے فی صد مان گئے۔وہی لوگ جو خلیفہ کی کوئی ہستی نہ سمجھتے تھے ان کو خلیفہ ماننے لگ گئے۔یا اب جب کہ میری خلافت کا زمانہ آیا تو کس قدر مخالفت ہوئی اور کتنی میرے خلاف کوشش کی گئی تو کیا میں نے اس وقت حضرت مولوی صاحب کو اپنی مدد کے لئے بلایا تھا۔بلکہ میں جاننا تھا کہ جب یہ کام میرے سپرد ہوا ہے تو مجھے ہی اسے کرتا ہے اور لوگوں سے منوانا ہے۔اس لئے افسروں کو چاہیے۔ال