خطبات محمود (جلد 9) — Page 37
37 کہ اپنی طاقتوں کو اس راہ میں کس طرح خرچ کرنا چاہیے۔میرے نزدیک اس لحاظ سے سو سوا سو سے زیادہ آدمی نہیں جو حقیقی طور پر تبلیغ کا کام سر انجام دیتے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سلسلہ میں داخل ہونے والوں کی رفتار اس قدرست ہے۔حالانکہ جماعت خدا کے فضل سے لاکھوں کی تعداد میں ہے۔یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک احمدی سال بھر برابر کوشش کرتا رہے اور وہ سال بھر میں ایک بھی احمدی نہ بنا سکے۔حالانکہ جو چیز اپنے اندر طاقت اور جذب رکھتی ہے۔ناممکن ہے کہ وہ دوسری طاقت کو اپنی طرف نہ کھینچے۔یہ ناممکن ہے کسی پر عطر چھڑ کا جائے اور اس کو اس کی خوشبو نہ آئے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آگ ہو اور گرمی نہ ہو۔یا برف ہو اور ٹھنڈک نہ ہو۔پس اگر ایک احمدی جس کو ایمان اور عرفان حاصل ہے۔تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ کوشش بھی کرے اور پھر دوسرے کے دل میں ایمان اور عرفان پیدا نہ ہو۔اگر باوجود کوشش کے ہم دوسرے کے اندر ایمان و عرفان پیدا نہیں کر سکتے تو پھر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خود ہمارے اندر ہی ایمان و عرفان کی کمی ہے۔یا دنیا میں رہ کر ہم دنیا کے لوگوں سے علیحدہ رہتے ہیں ورنہ ہماری کوشش اور محنت کا ضرور اثر ہوتا۔اگر ہم دنیا میں رہ کر دنیا کو نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہماری تربیت سے دنیا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا تو ہمارا اپنی ذات میں مفید اور نفع مند ہونا کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔اگر ہمارے اندر ایمان اور عرفان ہے۔تو ضرور ہماری کوشش اور توجہ دوسروں کو کھینچنے والی ہو گی۔اگر ہمارے اندر ایمان و عرفان کی گرمی ہوگی تو وہ ضرور دوسروں کے اندر بھی گرمی پیدا کرے گی۔میں پھر احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔ان کو چاہیے کہ وہ اپنے فرض کو اور وقت کی نزاکت کو سمجھیں۔مجھے افسوس ہے کہ کچھ کام جو جماعت کے افسروں اور کارکنوں کے سپرد ہیں جماعت کے لوگ ان کے پورا کرنے میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔اگر قادیان کے لوگ ان کا ہاتھ بٹانے میں اپنا عملی نمونہ دکھائیں تو جماعت کے امیروں اور سیکریٹریوں اور کارکنوں کے کام میں دقت پیش نہ آئے۔بعض وقت ایک ناظر کام کرنا چاہتے ہیں۔لوگوں کو جلسے کے لئے بلاتے ہیں۔تا مفید تجاویز پیش ہوں اور ان پر عملد در آمد کیا جائے۔لیکن جلسہ میں بہت کم شریک ہوتے ہیں۔پچھلے دنوں ہی میرے کہنے پر ناظر صاحب دعوت و تبلیغ نے جلسہ کیا تا تبلیغ کے لئے مناسب انتظام کیا جائے۔لیکن قادیان کے چوبیس سو احمدیوں میں سے صرف ہیں پچیس آدمی ان کے جلسہ میں شریک ہوئے۔جس کے صاف یہ معنی ہیں کہ انہوں نے اپنے عمل سے ان کو یہ جواب دیا ہے کہ تبلیغ کرنا ہمارا کام نہیں یہ